لاہور (لیڈی رپورٹر) شارع فاطمہ جناح پر واقع جناح ڈگری کالج برائے خواتین میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث طالبات کے لےے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اساتذہ اور طالبات نے نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مسائل کے انبار لگا دیئے۔ طالبات سحر ذوالفقار اور ریحہ خالد نے بتایا کہ کالج میں اساتذہ اور کلاس رومز کی کمی کی وجہ سے تعلیم کا حصول دشوار ہو گیا ہے۔ انعم فاطمہ اور مہوش ارشد نے کہا کہ ہمیں واش رومز کی کمی کے علاوہ پانی کی عدم دستیابی کا بھی سامنا ہے۔ ثمن زہرہ اور مہوش امتیاز نے کہا کہ کالج ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اسماءاحسان اور سمیرا اسماعیل نے کہا کہ کینٹین میں اشیاءانتہائی مہنگے داموں ملتی ہیں جبکہ گرمیوں میں ٹھنڈا پانی بھی نہیں ملتا۔ اقرا نثار نے کہا کہ گراﺅنڈ کی چار دیواری نہ ہونے سے شدید مشکلات ہیں۔ اساتذہ عنبرین ارشد اور شبانہ جمیل نے کہا کہ کالج میں آڈیٹوریم اور کینٹین کے پاس طالبات کے بیٹھنے کی جگہ ہونی چاہےے۔ ڈاکٹر ثمینہ خان اور فرزانہ مجید نے کہا کہ سائنس لیب میں آپریٹس نہ ہونے اور اساتذہ کی کمی کی وجہ سے تعلیمی معیار برقرار رکھنا مشکل ہے۔ نصرت چیمہ، روبینہ سیف اور افشاں مسعود نے کہا کہ کالج میں نئے سبجیکٹس متعارف کروائے جائیں۔ قائم مقام پرنسپل ڈاکٹر بشریٰ ثمینہ نے کہا کہ کالج میں مختلف مضامین کی آسامیوں میں اضافہ کیا جائے۔ 2000ءطالبات کے لےے صرف 38 اساتذہ ہیں دوسری جانب تقریبات کا انتظام کرنے کے لےے کوئی فنکشن ہال نہیں ہے۔
Post New Comment