لاہور (رپورٹ : اعظم چودھری) پنجاب پولیس کے اعلی افسروں نے عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے کی بجائے تمام تر توجہ اپنی سکیورٹی کو بہتر بنانے پر مرکوز کر دی ہے آئی جی پنجاب کی سکیورٹی کیلئے وزیراعلی کی سکیورٹی کے برابر افرادی قوت اور وسائل استعمال کئے جا رہے ہیں اور آئی جی کی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کیلئے پولیس ویلفیئر فنڈ سے کروڑوں روپے نکلوا کر آئی جی ہاﺅس کے گرد کنکریٹ کی دیواریں تعمیر کرنے کا بھی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق وزیراعلی شہباز شریف کی رہائشگاہ اور تمام دفاتر کی سکیورٹی پر تقریباً ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں مگر وزیراعلی کے گھر یا دفاتر کے قریب سے گزرنے والی کسی سڑک کو نہ تو دیواریں کھڑی کرکے بند کیا گیا اور نہ ہی راہگیروں کی آمد و رفت محدود کی گئی جبکہ دوسری جانب پنجاب پولیس کے افسروں نے نہ صرف کنکریٹ کی دیواریں تعمیر کروا لیں بلکہ اپنے دفاتر کے قریب سے گزرنے والی سڑکوں کو بھی دیواریں کھڑی کرکے عوام کیلئے بند کر دیا گیا صرف لاہور میں آئی جی‘ سی سی پی او‘ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کے دفاتر کے گرد کنکریٹ کی دیواریں تعمیر کرنے کیلئے تقریباً 7 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے جن میں سے تین کروڑ کی لاگت سے صرف آئی جی آفس کی دیواریں تعمیر ہوئی تھیں اب آئی جی پنجاب نے سرکاری رہائشگاہ کے گرد بھی کنکریٹ کی دیواریں تعمیر کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں ان دیواروں پر ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ گزشتہ دنوں دیواروں کی تعمیر کے سلسلہ میں آئی جی کی سربراہی میں خصوصی اجلاس ہوا جس میں ان دیواروں کی تعمیر کیلئے بجٹ کی فراہمی کے معاملات زیر بحث آئے کچھ افسروں نے پولیس کے سالانہ بجٹ میں اتنے اضافی پیسے نہ ہونے کی جانب توجہ دلائی تو آئی جی نے تجویز دی کہ پولیس ویلفیئر فنڈ سے ڈیڑھ کروڑ روپے نکلوا کر آئی جی ہاﺅس کی دیواریں تعمیر کروا دی جائیں اور جب اگلے بجٹ میں پولیس کو پیسے ملیں گے تو یہ ڈیڑھ کروڑ روپے ویلفیئر فنڈ کو واپس کر دئیے جائیں گے جس پر وہاں موجودچند سینئر ترین افسروں سے حقائق کے مطابق بات کرنے کی بجائے محض آئی جی کی ہاں میں ہاں ملانے پر اکتفا کیا۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آئی جی پنجاب کی سکیورٹی کیلئے کم و بیش 800 پولیس ملازمین اور 10 گاڑیاں تعینات ہیں اس نفری میں دہشت گردی کیلئے نمٹنے کیلئے خصوصی تربیت یافتہ کوئیک رسپانس فورس کے 32 ‘ ایلیٹ فورس کے 50 اہلکار بھی شامل ہیں۔ آئی جی پنجاب کی اس ”فول پروف“ سکیورٹی کے حوالے سے کچھ سینئر پولیس افسروں نے شدید ردعمل کا اظہار بھی کیا ہے کچھ افسروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے ایڈیشنل آئی جی کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری صفوت غیور بھی آئی جی پ نجاب کے برابر گریڈ کے افسر تھے مگر انہوں نے اپنی سکیورٹی پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی۔ سرکاری وسائل کو اپنی سکیورٹی کیلئے استعمال نہیں کیا۔
Post New Comment