لاہور میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے 2 ہلاک، ورثاءکا احتجاج

ـ 8 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (نمائندہ خصوصی) صوبائی دارالحکومت میں مختلف واقعات میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے دوران زچگی خاتون اور بچی ہلاک ہوگئیں جس پر ورثاءنے انتظامیہ اور ڈاکٹروں کےخلاف احتجاج کیا۔ دوسری طرف جناح ہسپتال میں ایک مریض کے لواحقین اور ڈاکٹروں کے درمیان جھگڑا ہونے پر ایمرجنسی کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ ساندہ کے علاقہ بند روڈ ابوبکر صدیق کالونی کے غلام مصطفی نے بیوی صائمہ کو ڈلیوری کےلئے صداقت پارک میں نیو لاہور کلینک میں داخل کروایا تھا۔ جہاں آپریشن کے دوران نومولود بچی ہوگئی جس پر ورثاءنے ڈاکٹروں کےخلاف نعرے لگائے۔ پولیس نے مصطفی کی بھابی ممتاز کی درخواست پر لیڈی ڈاکٹر سنجیدہ عزیز، نرس روبینہ اور ناشیہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے دونوں نرسوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار نرسوں نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے بچی کے ورثاءکو الٹرا ساﺅنڈ رپورٹ کے بعد بتا دیا تھا کہ بچی کی پیدائش میں تاخیر ہو چکی ہے جس کے باعث زہر پھیل چکا ہے۔ ورثاءنے ہمیں ڈلیوری کی اجازت دی تھی۔ مزیدبراں مین پارک شفیق آباد کا پولیس اہلکاروں حاجی ریاض بیٹی سدرہ کو زچگی کےلئے لیڈی ایچی سن ہسپتال لایا جہاں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے سدرہ دم توڑ گئی۔ لواحقین نے نعش رکھ کر ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کےخلاف احتجاج کیا۔ ریاض کے مطابق شام پانچ بجے تک کسی بھی ڈاکٹر نے سدرہ کو ایمرجنسی میں جا کر چیک نہ کیا انہوں نے متعدد بار ڈاکٹروں سے درخواست کی مگر ڈاکٹر ٹال مٹول سے کام لیتے رہے شام ساڑھے پانچ بجے سدرہ کو دو خون کی الٹیاں آئیں تو اس کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ چند ہی منٹوں میں دم توڑ گئی تو ڈاکٹروں نے کاغذی کارروائی کے بعد نعش ورثاءکے حوالے کر دی اور انہیں جلدازجلد ہسپتال سے جانے کی ہدایت کی۔ متوفیہ کے ورثاءکا کہنا تھا کہ اس کی موت ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث ہوئی ہے۔پیکو روڈ کے طالبعلم راحیل کی حادثہ میں ٹانگ ٹوٹ گئی جسے فوری جناح ہسپتال لایا گیا جہاں مریض کے لواحقین اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کے مابین تلخ کلامی ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے مریض کے بھائی شعیب اور چچا ندیم اعوان کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ایمرجنسی وارڈ میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگی۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے اگر ڈاکٹر ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions