”پروفیسر منور مرزا نے ساری زندگی مقاصد پاکستان کی تکمیل میں صرف کی“

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (خبرنگار خصوصی) قائداعظمؒ اور اقبالؒ کی سوچ فکر اور جدوجہد کے نتیجہ میں وجود میں آنے والے پاکستان کی بقائ، سلامتی، ترقی و خوشحالی کا دارومدار ہی دو قومی نظریہ کی ترویج اور اسے اپنے اصل مقاصد سے ہمکنار کرنے میں ہے۔ پروفیسر منور مرزا نے بھی ساری زندگی مقاصد پاکستان کی تکمیل اور اقبالؒ کے خودی کے پیغام کو کئی نسلوں تک عام کرنے اور ان کے فلسفہ کی ترویج میں صرف کی۔ ان کی حقیقی خدمات ہر دور میں یاد رکھی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار جناح ہال میں پروفیسر منور مرزا کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ تقریب کی صدارت ریٹائرڈ چیف جسٹس میاں محبوب احمد نے کی جبکہ تقریب سے ڈاکٹر رفیق احمد، جسٹس (ر) منیر اے مغل، پروفیسر احمد حسن، پروفیسر مظفر مرزا، پروفیسر بصیرہ نسرین، ڈاکٹر سجاد حیدر نے خطاب کیا اور پروفیسر منور مرزا کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی اقبال کے نظریات کے فروغ اور فکر اقبال عام کرنے میں گزاری۔ جسٹس (ر) محبوب احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی مملکت کی بقاءو سلامتی کا انحصار بھی اس نظریہ پر قائم رہنے اور اس کے مقاصد کے لےے تگ و دو کرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ منور مرزا نے بھی اپنی زندگی کو اقبالؒ کے نظریات، خیالات اور حضرت قائداعظمؒ کی جدوجہد سے نئی نسل کو آگاہ کرنے میں صرف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمیں درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا مقابلہ اور قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے فرمودات پر کاربند رہ کر کرسکتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ پروفیسر منور مرزا حقیقی معنوں میں فکر اقبال کے مبلغ تھے اور انہوں نے نئی نسل میں فکر اقبال کو سمجھنے سوچنے کا جذبہ پیدا کیا اور آخری دم تک اس کے لےے سرگرم رہے۔ دیگر مقررین نے پروفیسر منور مرزا کی خدمات اور فکر اقبال کی تحریک میں ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم دوبارہ اس فکر کی طرف لوٹیں اور حضرت قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے خیالات و نظریات کو مشعل رہ بناتے ہوئے چیلنجز کے خلاف نبردآزما ہوں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions