لاہور (نیوز رپورٹر + اے ایف پی) لاہور میں سوائن فلو کے جان لیوا مرض کا شکار ہو کر نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال کا فزیوتھراپسٹ چل بسا ۔یہ صوبائی دارالحکومت میں اس مرض سے ہونیوالی پہلی ہلاکت ہے جس کے بعد شہر کے تمام ہسپتالوں میں ہائی الرٹ کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کرنے اور ضرورت پڑنے پر ایسے مریضوں کو داخل کرنے کے لئے علیحدہ انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال کے فزیوتھراپسٹ 35 سالہ افتخار کو ایک ہفتہ سے بخار اور کھانسی کی شکایت تھی اس کا معائنہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر جاوید اکرم نے کیا اوراس کے ٹیسٹ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد اور جناح ہسپتال سے کرائے گئے جس میں سوائن فلو ٹیسٹ مثبت آنے پرمریض کو علیحدہ رکھ کر خصوصی علاج شروع کیا گیا تاہم افتخار اس جان لیوا بیماری سے صحت یاب نہ ہو سکا۔ محکمہ صحت پنجاب نے سوائن فلو کے مریض کا علاج کرنے والے طبی عملہ اور مریض کے اہل خانہ کے سیمپل لے کر ٹیسٹوں کے لئے اسلام آباد بھجوا دئیے۔ دریں اثنا صوبائی سیکرٹری انوار اے خان نے افتخار کی سوائن فلو سے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس مرض سے افتخار کی ہلاکت تعجب کا باعث ہے۔ شاید وہ کسی اور مریض سے ملا ہو گا جس سے اسے سوائن فلو کے وائرس منتقل ہوئے۔ ادھر فزیوتھراپسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عامر نے الزام لگایا کہ افتخار کی موت ڈاکٹروں کی غفلت اور علاج میں لاپرواہی سے ہوئی۔ ہسپتال میں مناسب سہولیات نہ ادویات حتیٰ کہ وینٹی لیٹر مشین بھی خراب تھی۔ واضح رہے کہ افتخار ’’سندر‘‘ گائوں کا رہائشی اور 3 بچوں کا باپ تھا۔ سینئر ڈاکٹروں اور پروفیسروں کا اس واقعہ کے حوالے سے کہنا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں سوائن فلو جیسی مہلک اور انتہائی چھوتی بیماری سے بچائو اور علاج کیلئے مناسب اقدامات نہیں کئے گئے جبکہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ سوائن فلو کے وائرس ’’ایچ ون این ون‘‘ کا ٹیسٹ صرف جناح ہسپتال میں کیا جا رہا ہے تاہم اس مرض پر قابو پانے اور اس کی بروقت تشخیص کے لئے مناسب فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوائن فلو کا وائرس متاثرہ شخص کے سانس سے بھی صحت مند فرد کو منتقل ہو سکتا ہے اس لئے ہجوم میں جاتے ہوئے منہ پر ماسک لگا لینا چاہئے۔
Post New Comment