لاہور (سلمان غنی) وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ آج سیاسی جماعتوں اور مفادات سے بڑا چیلنج ملک کا چیلنج ہے۔ لہٰذا ہم سیاسی چیلنجز میں الجھے نہیں رہ سکتے۔ دہشت گردی جیسے ناسور کے قلع قمع کیلئے پاکستان کی تمام اہم سیاسی جماعتوں‘ ان کے پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے قومی پالیسی کی تشکیل اور اقدامات ان کی تجاویز کی روشنی میں طے ہونگے۔ دہشت گردی کے مستقل بنیادوں پر سدباب کیلئے ایسی اتھارٹی کا قیام زیرغور ہے جو مسئلہ کی جڑ تک پہنچنے کے ساتھ اس سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کو یقینی بنائے اس حوالے سے سفارشات جلد پارلیمنٹ میں آئیں گی۔ جلد قومی پالیسی کی تشکیل کے ساتھ اس پر عملدرآمد شروع ہوگا۔ دہشت گردی کا خاتمہ ملکی بقاء کی ضمانت ہے اس حوالے سے سستی کاہلی نہیں ہوگی۔ قومی جذبہ کو بروئے کار لائیں گے۔ وہ نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کر رہے تھے۔ قبل ازیں انہوں نے ایڈیٹرانچیف نوائے وقت گروپ مجید نظامی دی نیشن کے ایڈیٹر اور نوائے وقت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر عارف نظامی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات اشفاق گوندل بھی موجود تھے۔ وزیر اطلاعات نے انہیں ملک کو درپیش چیلنجز دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف امور پر اعتماد میں لیتے ہوئے حکومتی موقف سے آگاہ کیا اور بتایا کہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے۔ انہوں نے ایڈمرل مائیکل مولن اور رچرڈ ہالبروک کے دورہ کے حوالے سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے پھیلائو سے پریشان ہیں۔ ہم نے انہیں باور کرایا ہے کہ ہم اپنے علاقوں میں ایسا نہیں ہونے دینا چاہتے اور اس کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو پتہ ہے کہ ہم تو خود ٹارگٹ ہیں ہمارا سارا سماج متاثر ہو رہا ہے ہم اس صورتحال کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ہم ممکنہ اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب دہشت گردوں نے پنجاب کا رخ کیا ہے حکومت ان کے قلع قمع کیلئے ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ دہشت گردوں نے پنجاب کو اس لئے ٹارگٹ کیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کا مرکز ہے اسے بھی غیرمستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے ذمہ دار اداروں کی اہلیت انٹیلی جنس سسٹم کی تقویت کیلئے میکنزم طے ہو رہا ہے اور یہ جلد ہوگا اور جلد نتائج بھی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن سے مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اس لئے صدر زرداری نے پنجاب حکومت کی بحالی سے قبل اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے اور اگر ووٹ بھی دینا پڑے تو دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی بحالی عدالتی فیصلہ تھا اور ہم ان سمیت سب سے ڈائیلاگ کے خواہاں ہیں۔ قمرالزمان کائرہ نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ منتخب حکومتوں کے قیام کے بعد مہنگائی‘ بیروزگاری میں اضافہ ہوا۔ اس کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں دنیا بحران کے زد میں رہی لیکن اس بحران سے ہم نے پاکستان کو بچانے کی کوشش کی یہاں اتنے منفی اثرات نہیں آئے جتنے دوسرے ملکوں میں تھے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں لگنے والی آگ سے ہم نے ملک کو بچایا لیکن ہم نے نوٹ چھاپ کر معاملات چلانے والا کلیہ استعمال نہیں کیا البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ایک عوامی جماعت ہونے کی حیثیت سے غریب کے ریلیف کیلئے 34 ارب روپے سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا اور آئندہ سال 70 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ بدقسمتی سے مشکل وقت میں مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں ہم نہیں چاہتے تھے کہ ملک کو نقصان ہو جب دنیا کا انجر پنجر ہل رہا تھا تو ہم نے اپنی اکانومی کو تباہ نہیں ہونے دیا بلکہ حالات کا مقابلہ کیا۔ بحرانی کیفیت طاری نہیں ہونے دی۔ افراط زر کو 33 فیصد سے 22/23 پر لے آئے اور ہماری کوشش ہے کہ یہ سنگل ہندسے پر آجائے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہاں گندم کا بحران پیدا نہیں ہوگا بلکہ ہمارے پاس چاول سرپلس ہے ہم ایک زرعی ملک ہیں اور اس وقت یہاں ایسا کوئی غذائی بحران پیدا نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی سطح پر مستقبل میں ایسے کسی بحران کا اندیشہ نہیں جو حال ہی میں پیدا ہوا۔ البتہ حالات بگڑ سکتے ہیں لیکن ہم میں مسائل پر قابو پانے کا ادراک اور صلاحیت ہونی چاہئے۔ ڈیڈلاک پیدا نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بحرانوں کے حل کا دخل ہماری نیتوں سے ہوتا ہے۔ نیتیں درست ہوں تو مسائل پیدا نہیں ہوتے ہو بھی جائیں تو حل ہوجاتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آج سیاسی چیلنجز سے بڑا چیلنج ملک کا چیلنج ہے۔ جماعتوں اور ہمارے مفادات سے بڑا ہے اگر ملک رہے گا تو سارا سلسلہ چلے گا۔ آج اپوزیشن میں ہیں تو حکومت میں آجائیں گے۔ حکومت میں ہیں تو اپوزیشن میں چلے جائیں گے۔ یہ چیزیں ملک کے سامنے کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ حکومت پریس کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ پرنٹ میڈیا کا اپنا ضابطہ اخلاق ہے البتہ الیکٹرانک میڈیا کیلئے اس کی ضرورت ہے۔ حکومت اس حوالے سے تھانیداری نہیںچاہتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ خود بیٹھ کر اس پر کام کریں اور اپنے ہی ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہوں تاکہ میڈیا موثر اور بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکے۔ عارف نظامی کی جانب سے میڈیا کے بارے میں حکومتی پالیسی کے ضمن میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پریس پر کسی قدغن کے حق میں نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ سال چیلنجز کا سال تھا اور ان کی پیشرو شیری رحمن کی ترجیحات بھی میری ترجیحات ہیں بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہمارے اداروں میں بھی آزادانہ ورکنگ ہو۔ پی ٹی وی اور ریڈیو بھی خودمختار ہوں۔ نیوز اور کرنٹ افیئرز کے پروگراموں میں حقائق سامنے لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میڈیا کے ذریعے ہمارا اپنا کلچر فروغ پائے نہ کہ غیروں کے کلچر کی ترویج ہو۔
وزیر اطلاعات
Post New Comment