اسلام آباد (ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) قائمہ کمیٹی نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے احتساب بل کا نام ”نیشنل اکا¶نٹیبلٹی کمشن ایکٹ 2010ئ“ رکھنے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ تاہم نئے احتساب بل پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، نئے احتساب کمشن کے تحت سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ بیورو کریٹس اور دیگر سرکاری عہدیداروں کو بھی احتساب میں شامل کر لیا گیا ہے، احتساب کا عمل یکم جنوری 1985ءسے شروع ہو گا‘ ادارے کی اپنی تحقیقاتی ایجنسی قائم کی جائے گی، مسلم لیگ (ن) نے اپنی ترامیم تحریری طور پر دینے کا مطالبہ مسترد کر دیا، قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین بیگم نسیم اختر چودھری کی صدارت میں ہوا۔ وفاقی وزیر قانون اور وزیر مملکت اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس پر ارکان نے اظہار مایوسی کیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی ترامیم کا مسودہ پیش کیا۔ زاہد حامد نے نئے احتسابی بل اور ادارے کا نام قومی احتساب کمیشن ایکٹ 2010ءرکھنے کی تجویز دی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے م¶قف اختیار کیا کہ احتساب کے نام پر صرف سیاستدانوں کو نشانہ بنانا درست نہیں اس لئے بیوروکریسی اور دیگر افراد کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ارکان نے متفقہ طور پر موقف کی حمایت کی۔ زاہد حامد نے ترمیم پیش کی کہ احتساب کمشن مالی اور انتظامی طور پر خودمختار ہو گا‘ اس کا الگ تحقیقاتی ادارہ ہو گا، موجودہ احتساب قانون میں عوامی عہدہ رکھنے کے حامل لفظ کو تبدیل کر کے ”ملزم“ لکھا جائے۔ کمیٹی نے مجوزہ ترمیم منظور کر لی۔ زاہد حامد نے ایک اور ترمیم پیش کی جس کے تحت خصوصی احتساب عدالتیں قائم کی جائیں گی جن کی سماعت سینئر ترین ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرے گا‘ اس کی نامزدگی چیف جسٹس کریں گے جو ہائی کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتے ہوں گے‘ ترمیم پر کمیٹی میں اختلاف شروع ہو گیا، سیکرٹری قانون نے کہا کہ ضلعی سطح پر ججوں تک رسائی آسان ہوتی ہے‘ اثر و رسوخ سمیت پیسہ استعمال کیا جا سکتا ہے‘ سماعت ہائی کورٹ تک ہی محدود رہنی چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کا موقف تھا کہ سماعت ہائی کورٹ تک محدود رکھی گئی تو ملزم کو اپیل کا حق محدود ہو جائیگا۔ پیپلز پارٹی کے چودھری غفور نے کہا کہ ہائی کورٹ سے نیچے نہ جایا جائے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے پاس پہلے ہی بہت کام ہے انہیں یہ ذمہ داری نہ دی جائے۔ ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری نے بھی اس تجویز سے اختلاف کیا اور کہا کہ لگتا ہے ترمیم کے نام پر نیا بل لایا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ملے ہوئے ہیں‘ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو ترامیم رائے ونڈ سے آئی ہیں وہ ہمیں تحریری طور پر دی جائیں تاکہ ہم دیکھ سکیں کہ کہیں وہ آئین سے متصادم تو نہیں اس بات پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے احتجاج کیا اور کہا کہ رائے ونڈ کی بات نہ کی جائے۔ دیگر ارکان اور سیکرٹری لاءنے ترامیم تحریری طور پر دینے کا مطالبہ کیا جسے مسلم لیگ (ن) نے مسترد کر دیا۔ ریاض فتیانہ نے کہا کہ احتساب بل میں تاخیر سے بدنامی ہو رہی ہے یہ کام جلد از جلد نمٹایا جائے۔ زاہد حامد نے کہا کہ کمیٹی کی نیت تاخیر کی لگتی ہے ہم نے کوئی نیا بل یا مسودہ پیش نہیں کیا صرف ترامیم دی ہیں، سیکرٹری قانون نے کہا کہ ہماری اس بل میں کوئی ذاتی دلچسپی نہیں کمیٹی جو فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد کریں گے۔ سائرہ افضل نے کہا کہ احتساب بل کے حوالے سے حکومت کی ڈکٹیشن نہ لی جائے‘ آزادانہ فیصلے کئے جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہم بااختیار ہیں اور ہمارے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ بعدازاں قائمہ کمیٹی نے ضابطہ دیوانی ترمیم بل 2009ءکی منظوری دیدی جس کے تحت جھوٹا مقدمہ کرنے پر جرمانہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپیہ کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے جیلوں میں پی سی او نصب کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ضابطہ فوجداری میں ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی‘ جھوٹے مقدمہ میں جرمانے کی حد 25ہزار سے بڑھاکر ایک لاکھ روپے کی ہے۔ بل پر حکومت اور اپوزیشن میں اختلافات ختم نہیں ہو سکے۔ تین سال ختم ہونے پر ریفرنس خودبخود ختم ہونے کی شق دوبارہ شامل کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے ارکان برہم ہو گئے۔ کمیٹی کا اجلاس 13اور 16فروری کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے جس پر صرف احتساب بل پر غور ہو گا۔
قومی احتساب
Post New Comment