تازہ ترین:

’’آزادی کشمیر کے بغیر تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل ناممکن ہے‘‘

ـ 4 جون ، 2009
  • Adjust Font Size

لاہور (خصوصی رپورٹر) 3 جون 1947ء کو برطانوی حکومت کی جانب سے تقسیم ہندوستان کا اعلان کرتے وقت بددیانتی سے متعدد مسلم اکثریتی علاقوں کو بھارت میں شامل کردیا گیا۔ ہمیںان تمام علاقوں کو بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کرواکر پاکستان میں شامل کرنا ہے تب ہی تقسیم ہندوستان کے ایجنڈے کی تکمیل ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان شاہراہ قائداعظم لاہور میں ’’منصوبہ 3 جون 1947ئ‘ جدوجہد آزادی کا ایک تاریخ ساز دن‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نشست کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا جس کی صدارت تحریک پاکستان کے گولڈمیڈلسٹ کارکن خواجہ حبیب اللہ ککرو نے کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما سینیٹر نعیم حسین چٹھہ، پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین مرزا اور علامہ پروفیسر محمد مظفر مرزا نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ مون پبلک سکول راوی روڈ، کینٹ پبلک ہائی سکول سرور شہید روڈ، پاسبان حرم پبلک ہائی سکول علامہ اقبال ٹائون اور نالج ہائوس پبلک سکول سسٹم گلبرگ کے طلبہ وطالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما سینیٹر چودھری نعیم حسین چٹھہ نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ایک نہایت ہی انمول تحفہ ہے اور یہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی پرخلوص کاوشوں کا صلہ اور ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 جون 1947ء کا منصوبہ درحقیقت قائداعظمؒ کی جدوجہد کا ثمر تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کیلئے بنا ہے۔ بزم اقبال لاہور کے سیکرٹری علامہ پروفیسر محمد مظفر مرزا نے کہا کہ 3 جون کا دن ہماری تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانان ہند نے جس مقصد کیلئے طویل عرصے سے جدوجہد کررہے تھے اس کا نتیجہ 3 جون 1947ء کو ظاہر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن قائداعظمؒ نے ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے پہلی مرتبہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قائداعظم عاشق رسولؐ نہ ہوتے تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ مشرقی پاکستان حاصل کریں گے۔ کشمیر‘ جیسمیر اور جودھ پور کو پاکستان کا حصہ بنائیں گے۔ معروف دانشور و محقق پروفیسر ڈاکٹر سرفراز حسین مرزا نے اپنے لیکچر میں کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ہر قومی دن کے موقع پر تقریب منعقد کرتا ہے۔ ہمارا ہدف جوان نسل ہے جنہوں نے مستقبل میں ملک و قوم کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نامکمل منصوبہ تھا کیونکہ بہت سے مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل نہ ہوسکے جن میں سے ایک کشمیر بھی ہے اور کشمیری آزادی کے حصول اور پاکستان میں شمولیت کیلئے ابھی تک بھارت سے جنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن جسے میں پنڈت مائونٹ بیٹن کہتا ہوں وہ اس لیے ہندوستان کا وائسرائے بناکر بھیجا گیا تھا کہ وہ یہاں کے حالات کا جائزہ لے کر ہندوستان کو تقسیم کردے لیکن وہ ہندوئوں کی سازشوں کا شکار ہوکر متحدہ ہندوستان پر اڑا ہوا تھا اور اسے تقسیم نہ کرنا چاہتا تھا لیکن قائداعظمؒ نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور کہا کہ یہ ایک مردہ گھوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے منصوبے کے اعلان کے بعد ہندوئوں اور سکھوں نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ شرع کردیا اور یہ کہنے لگے کہ پاکستان ہرگز قائم نہیں رہ پائے گا بلکہ بہت جلد دوبارہ بھارت میں ضم ہوجائے گا لیکن اللہ کے فضل و کرم سے نہ صرف پاکستان قائم و دائم رہا بلکہ ترقی کی منازل سے طے کررہا ہے۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان‘ قائداعظمؒ‘ علامہ محمد اقبالؒ اور مادرِ ملت زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔
3 جون

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions