لاہور (نمائندہ خصوصی) صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں شدت پسندوں کی گرفتاری کے باوجود تفتیش میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ تاہم پولیس نے صوبائی دارالحکومت میں حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے لئے باقاعدہ حساس ادارے کی خدمات حاصل کر لی ہیں اور گزشتہ روز پولیس اور حساس ادارے کی مشترکہ ٹیموں نے شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرکے درجن سے زائد مشکوک افراد کو حراست میں لیا۔ سب سے بڑا آپریشن فیروزپور روڈ، چونگی امرسدھو کے اردگرد آبادیوں میں کیا گیا مگر کوئی دہشت گرد ہاتھ نہیں آ سکا تاہم چند افغانیوں سمیت پشتو بولنے والے درجنوں افراد کو حراست میں لینے کے بعد شناخت پیش کرنے والوں کو چھوڑ دیا جب کہ دوسروں کو مزید تفتیش کے لئے مختلف تھانوں میں بھیج دیا گیا۔ علاوہ ازیں مزنگ میں بھی مشترکہ ٹیموں نے آپریشن کرکے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرنے کے بعد آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص پر شبہ ہے کہ وہ کسی شدت پسند گروپ سے تعلق رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماڈل ٹاﺅن میں قادیانی عبادت گاہ سے گرفتار زخمی شدت پسند معاذ سے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت اور عبداللہ سے کسی خفیہ مقام پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ اور ان کے پاس موثر معلومات ہونے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے مزید ساتھیوں کو تاحال گرفتار نہیں کر سکے۔ علاوہ ازیں سمن آباد میں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ اور جناح ہسپتال پر حملہ کرنے والوں کا بھی تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ علاوہ ازیں باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے صوبائی دارالحکومت میں اپنا ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے اور ان کی جانب سے شہر میں مزید کارروائیوں کا بھی اندیشہ ہے کیونکہ یہ شدت پسند سوات اور وزستان طرز پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں اپنی طاقت منوانا چاہتے ہیں سوات اور وزیرستان میں بھی شدت پسندوں نے پہلے سکیورٹی فورسز اور پھر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے بعد باقاعدہ اپنی حکومت کا اعلان کر دیا تھا اور پھر وہاں اسلامی نظام کے نام پر بے شمار لوگوں کی گردنیں کاٹی گئیں اب وہ ایسی تاریخ پنجاب میں بھی دہرا سکتے ہیں۔ اور یہ بھی خدشہ ہے کہ پولیس یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے اسی لئے سکیورٹی ایجنسیاں ان شدت پسندوں سے نمٹنے کے لئے ازسرنو حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔
Post New Comment