لاہور (خبرنگار خصوصی) وزیراعلیٰ کے سینئر مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار کھوسہ نے دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے امکان کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو سٹریٹجک پارٹنر بنانے کی خواہشات اپنی جگہ لیکن ہمارے مغربی بارڈرز پر 29 بھارتی قونصل خانے بنانے کا کیا جواز ہے۔ کیا یہاں ویزے لگتے ہیں اور اس بارے میں عوام کے اندر شکوک و شبہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی کا ٹارگٹ بنانے والوں کو پنجاب کا امن راس نہیں آیا۔ ہم اپنی پولیس کو دہشت گردی اقدامات کے مقابلے کیلئے منظم کررہے ہیں اور دہشت گردی و تخریب کاری پر قابو پانے کیلئے ممکنہ اقدامات کرینگے۔ وہ گزشتہ روز فیصل چوک میں پولیس کے شہداء کی یادگار پر پھول چڑھانے کی تقریب کے موقع پر بات چیت کررہے تھے۔ قبل ازیں سردار ذوالفقار کھوسہ نے شہداء کی تصاویر پر پھول چڑھائے۔ اس موقع پر سی سی پی او پرویز راٹھور نے کہا کہ ملک و قوم اور امن و استحکام کیلئے پولیس ممکنہ کردار ادا کریگی اور قربانیوں میں پیچھے نہیں رہے گی۔ بعدازاں سردار ذوالفقار کھوسہ نے اخبار نویسوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ کہ پہلے دہشت گردوں کا مرکز دیگر علاقے تھے پھر انہوں نے پنجاب کو ٹارگٹ کیا لیکن ہم ان کے مکروہ اور ملک دشمن عزائم کے قلع قمع کیلئے ممکنہ کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کیلئے وزیراعلیٰ نے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور ان کیلئے بیشت قیمت آلات اور ہتھیار خریدے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک کوموثر اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے وزیراعلیٰ کوآرڈینیشن کمیٹی بناچکے ہیں جس میں وفاقی اداروں کے بھی لوگ ہیں اور انٹیلی جنس ٹیم کے موثر کردار سے دہشت گردی کی جڑیں کاٹنے میں مدد ملے گی۔ جی او آر کی بندش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بندش کا فیصلہ نہیں ہوا البتہ جب وزیراعلیٰ یہاں آئیں گے تو ان کے راستے پر سکیورٹی کا بندوبست تو یقینی بنانا پڑیگا۔
Post New Comment