دھماکوں کے بعد ہرطرف انسانی اعضا بکھر گئے‘ خواتین کی آہ و بکا‘ سینہ کوبی

ـ 2 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) یوم شہادت حضرت علیؓ پر ہونیوالے دھماکوں کے بعد جائے وقوعہ پر موجود خواتین کی آہ و پکار اور سینہ کوبی سے فضا اور زیادہ سوگوار ہوگئی۔ تھانہ لوئر مال سے بھاٹی چوک تک جگہ جگہ انسانی خون اور گوشت کے لوتھڑے، زخمیوں کی جوتیاں بکھری پڑی تھیں۔ میڈیا کے نمائندے جب موقع پر پہنچے تو ہر طرف آہ و بکا برپا تھی خواتین اپنے بچوں اور پیاروں کے نام لے لے کر دھاڑیں مارکر رو رہی تھیں۔ سانحہ میں زخمی ہونے والے حکومت، انتظامیہ اور حملہ آوروں کو بددعائیں دیتے اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دھماکے کرنے والوں کی بربادی کی بددعا کرتے دکھائی دیئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کے لواحقین میں سے کئی اپنے حواس کھو بیٹھے، جائے وقوعہ پر اپنے عزیز و اقارب کے پاس جانے کی ضد کرتے رہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد میو ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں میں پہنچ گئی جن میں خواتین اور بچے شامل تھے وہ اشکبار آنکھوں سے اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔ دھماکوں کے بعد ہر طرف انسانی لاشیں اور انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے۔ لوگ پریشانی کے عالم میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔ بم دھماکوں کے بعد رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ سر پر دوہتڑ مارتی اور بلند آوازیں روتی خواتین معصوم بچوں کو ڈھونڈتی پھر رہی تھیں۔ نوجوان اپنے والدین بوڑھے اپنی اولادوں کو آوازیں دے رہے تھے کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا بھاٹی چوک سے کربلا گامے شاہ، سلیم ماڈل ہائی سکول تک سڑک پر جوتیاں، جوس کے خالی پیکٹ، پھلوں کے شاپنگ بیگ اور دیگر سامان بکھرا پڑا تھا۔ موٹر سائیکلوں پر آنے والے متعدد افراد اہلخانہ کو تلاش کرتے اور پولیس سے جھگڑتے رہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions