لاہور (انٹرویو سلمان غنی) برطانوی ہاﺅس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے بھارت میں بیٹھ کر پاکستان پر الزام تراشی اور ہرزہ سرائی کو برطانوی وزیراعظم کے منصب کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ہندوﺅں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر اور یہ عمل برطانوی وزیراعظم کے شایان شان نہیں اور نہ ہی یہ برطانوی روایات ہیں بلکہ ایک گھٹیا، بے اصول کاروباری کی جانب سے گھٹیا معاہدہ کیلئے تھا اور وہ اس عمل کے دوران اس امر کو بھی بھول گئے کہ وہ جس ملک کیخلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں اس ملک کی فوج اور عوام نے وہ کچھ کر دکھایا جو وہ خود نہ کرسکے اور سوویت یونین کو اسکے انجام پر پہنچا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صدر کا منتخب صدر کی حیثیت سے برطانیہ کے دورے کا کوئی جواز نہیں۔ برطانیہ کے پاکستانیوں میں کیمرون کے بیان پر شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ صدر زرداری کو چاہئے کہ وہ شدید غم و غصہ میں مبتلا برطانوی پاکستانیوں کو سوٹ میں ملبوس ہنستے مسکراتے برطانیہ میں نظر آنے کی بجائے شلوار قمیض میں ملبوس پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ان لوگوں کو دلاسہ دیتے نظر آئیں جن کے بوڑھے بچے سیلاب کی نذر ہوگئے اور وہ کھلے آسمان تلے اپنے حکمرانوں کی امداد کے منتظر ہیں اور نوازشریف کو بھی چاہئے کہ چپ کا روزہ توڑیں اور اعلان کریں کہ اس شرمناک بیان کی واپسی تک وہ برطانیہ نہیں جائینگے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر قومی احتجاج کے باوجود صدر زرداری برطانیہ آئے تو احتجاجاً وہ انہیں نہیں ملیں گے جس ملاقات کیلئے انہیں لنچ کی دعوت ملی ہے۔ وہ گزشتہ روز لندن سے نوائے وقت سے خصوصی بات چیت کررہے تھے۔ لارڈ نذیر نے کہا کہ یہ خود پاکستان اور اہل پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جنہوں نے اپنے جذبات کے اظہار کیلئے جس قیادت کو چنا آج وہ پاکستانی قوم کا ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے منہ میں انگلیاں ڈالے بیٹھی ہے اور بدقسمتی یہی ہے کہ آج لوگ یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ جس قیادت کے اثاثے، جائیدادیں اور اولادیں برطانیہ میں ہوں وہ کس طرح برطانوی وزیراعظم یا برطانوی حکومت کے طرزعمل کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود برطانیہ کے اندر ڈیوڈ کیمرون کے اس بیان اور اس طرزعمل کو خود برطانیہ کے مفادات کیخلاف سمجھا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دوستوں کو ناراض کرنے کی یہ پالیسی خود برطانیہ کیلئے مسائل کا باعث بن سکتی ہے اور یہاں پر حکومتی اور سیاسی سطح پر کہا جا رہا ہے کہ برطانوی اصول سوداگری سے بالا ہیں۔ لارڈ نذیر نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ایک ادارے کے ذمہ داران نے مذکورہ بیان اور برطانوی وزیراعظم کے طرزعمل کے بعد برطانوی دورہ سے انکار کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ قوم کے احساسات و جذبات کے برخلاف دورہ نہیں کرسکتے جو ہمارے حکمرانوں اور خود صدر کیلئے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ جو احساس آئی ایس آئی میں موجود ہے وہ منتخب حکومت میں کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی قوم سے یہ کہہ کر دھوکہ دے رہے ہیں کہ سفارتی سطح پر آواز اٹھائینگے۔ ردعمل فوری ہوتا ہے، اپنی تصویر بنوانے اور شائع کروانے کیلئے ہائی کمشنر کو بلالیا جاتا ہے، اب کیوں نہیں۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ بدقسمتی اور افسوسناک امر یہ ہے کہ اہل مغرب جن 15 ہزار طالبان کو مارنے اور انہیں انکے انجام تک پہنچانے کیلئے نکلے تھے، ان کی پالیسی کے باعث آج یہ طالبان چالیس ہزار ہوچکے ہیں۔ یہ ایک کو گراتے ہیں تو انکے خاندانوں کے اور کئی سامنے آجاتے ہیں۔ طاقت اور قوت کے استعمال کی اس پالیسی نے انتہاپسندی کو بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمرون صاحب جب ہندوستان میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا رہے تھے تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ صرف ایک مہینے میں مقبوضہ کشمیر کے اندر 30 حریت پسندوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ کیا یہ ظلم، تشدد اور بربریت امن قائم کریگا۔ انہوں نے کہا کہ میں وثوق سے کہہ رہا ہوں کہ برمنگھم میں پیپلز پارٹی کے کنونشن کا خرچ ہمارے ہائی کمشنر نے اٹھایا ہے۔ واجد شمس الحسن نے برمنھگم کے سب سے اعلیٰ ہوٹل کا خرچ 48 ہزار پونڈ ایک دن کے کرایہ کے طور پر ادا کیا جو پاکستان کے تقریباً 65 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ ایک قونصلر محمد افضل نے انہیں رعایت دلوائی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بھی لنچ پر صدر زرداری سے ملاقات کی دعوت ملی ہے لہٰذا میں نے اس پر معذرت کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاش پاکستان کو ایسی قیادت ملے جس کے دل پاکستان اور پاکستان کے عوام، پاکستان کے مفادات کیلئے دھڑکتے ہوں جو بیرونی دنیا سے مرعوب ہونے کی بجائے اپنے عوام کے دباﺅ کو بروئے کار لائیں اور یہی پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے اور یہی پاکستان کے 17 کروڑ عوام کی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان میں ایک جراتمندانہ قیادت ہوتی تو ڈیوڈ کیمرون کو ایسا کہنے کی جرات نہ ہوتی۔
Post New Comment