لاہور(رپورٹ: اشرف چودھری) دورہ انگلینڈ میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مبینہ طور پر میچ فکسنگ سیکنڈل میں ملوث قرار دیتے ہوئے انکے خلاف کارروائی جاری ہے۔ ہمارے” سٹار“ کھلاڑیوں نے اپنے مختصر کیریئر میں شہرت کی اس بلندیوں کو چھو لیا جن کا شاید عام آدمی خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔قومی کرکٹرز نے اپنے مختصر عرصہ کی کرکٹ میں اتنی دولت کما لی ہے کہ ساری زندگی ان کی آنے والی چار نسلیں گھر بیٹھ کر بھی کھائیں تو ختم نہیں ہوتی جبکہ ان کھلاڑیوں کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو زیادہ تر کھلاڑیوں کا تعلق ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے بھی نیچے تھا۔ محمد آصف کا تعلق شیخوپورہ کے گاﺅں ماچھی کے سے ہے‘ اس کا والد ایک معمولی کسان ہے۔ محمد آصف کی زندگی نے ایسا موڑ لیا کہ پاکستان ٹیم میں آ گئے۔ تنازعات سے بھری ان کی چند سالہ کرکٹ نے انہیں اس قدر زیادہ دولت فراہم کر دی کہ وہ اپنے ماضی کو ہی بھول گیا۔ معمولی گھر میں پیدا ہونے والے محمد آصف کی اس وقت ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی فیز IV میں 212 cc کروڑوں روپے مالیت کی کوٹھی ہے جبکہ اس کے پاس گاڑیاں بھی بھاری مالیت کی ہیں۔ ابھرتے فاسٹ باﺅلر محمد عامر جس کا کرکٹ کیریئر ابھی صرف ایک سال کا ہے‘ اس کاتعلق گوجر خان کے مضافات میں ایک چھوٹے سے گھر سے ہے لیکن اس نے اپنے مختصر ترین کیریئر میں لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ڈبل ای بلاک میں عالی شان گھر خرید لیا ہے۔ سلمان بٹ کا تعلق ایک سفید پوش گھرانے سے ہے‘ اس وقت اس کی رہائش جوہر ٹاون میں ہے جبکہ اس کے علاوہ مختلف ہاوسنگ سوسائٹیوں میں بڑی تعداد میں بھی پلاٹس خرید رکھے ہیں۔ کامران اکمل کا تعلق ایک معمولی گھرانے سے تھا جہاں اس کے لیے اپنی تعلیم تک کے اخراجات کی گنجائش نہیں تھی لیکن آج اسے معلوم نہیں کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے۔ کامران اکمل نے 8 سالہ دور میںمعمولی گھر سے ڈیفنس کے پوش علاقے میں ایک ایک کنال کی دو کوٹھیاں جو زیڈ اور ڈبل ای بلاک میں ہےں جبکہ ایک نیٹ کیفے بھی ہے۔ کامران اکمل اور اس کے بھائیوں کے پاس بھی مہنگی ترین گاڑیاں ہیں۔ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے شعیب ملک کا تعلق بھی ایک معمولی گھر سے ہے لیکن اس وقت اس کا شمار امیر ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں ہونا شروع ہو گیا ہے۔ محمد یوسف کا شمار بھی ایسے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جس کا گھر ایک کمرے تک محدود تھا۔پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ کی مد میں لاکھوں روپے ماہانہ دے رہا ہے جبکہ اس کے علاوہ کھلاڑی میچ فیس اور سپانسر شپ کے ذریعے بھاری معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔
Post New Comment