اعلی عدلیہ کا ڈسٹرکٹ جج کو لاہور بار کے مطالبے پر تبدیل نہ کرنے کا اصولی فیصلہ

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کی تبدیلی کے ساتھ چار دیگر ججوں کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور تعینات نہ کرنے کے حیران کن مطالبے نے لاہور بار کے موقف کو کمزور بنا دیا ہے۔جس کے بعد لاہور بار کو اعلی عدلیہ کو قائل کرنے اور احتجاجی تحریک کےلئے پنجاب بار کونسل کی حماےت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اعلی عدلیہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو لاہور بار کے مطالبے پر تبدیل نہ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے ۔ سیشن جج زوار احمد شیخ کا تبادلہ روٹین کے مطابق مناسب وقت پر ان کی استدعا کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ دوسری طرف پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد اکرم خان نے لاہور بار کی کا بینہ کو واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اسی صورت میں احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے کی حمائت کریں گے جب لاہور سے منتخب ہونے والے پنجاب بار کونسل کے تمام ممبران اس کے لئے سفارش کریں ۔ انتہائی ذمہ دار زرائع کے مطابق اعلی عدلیہ نے لاہور بار کے جنرل ہاﺅس میں منظور کی گئی تین ریکوزیشنز کی بنیاد پر سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ بار اور بنچ کے تعلقات متاثر نہ ہوں۔مگر5اگست کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز احمد چوہدری کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کے رو برو لاہور بار کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات میں یہ مطالبہ انتہائی حیران کن تھا کہ سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کے تبادلے کے بعد جاوید رشید محبوبی،علامہ خالد رشید،محمود مقبول باجوہ اور عبد الستار اصغر کو اس عہدے پر تعینات نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ جوڈیشل افسر بھی لاہور بار کو بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج منظور نہیں ہوں گے ۔اگرچہ لاہور بار کے صدر ساجد بشیر شیخ کی طرف سے ان چاروں جوڈیشل افسروں کو بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور تعینات نہ کرنے کا مطابہ تحریری سفارشات میں شامل نہیں تھا مگر اس کے باوجود اعلی عدلیہ نے اس مطالبے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا۔جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فاضل جج صاحبان کی اکثریت نے اعلی عدلیہ کو یہی مشورہ دیا کہ اگر لاہور بار کے غیر منطقی مطالبے پر سیشن جج کو تبدیل کر دیا گیا تو عدلیہ کو بطور ادارہ ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور معمولی ایشوز پر بار ایسوسی ایشنز ججوں کو تبدیل کرنے کا مطالبہ شروع کر دیں گی۔ لاہور بار کے اعلی ذرائع نے کمیٹی کے رو برو پیش کئے گئے اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیشن جج کو تبدیل کرنے کا پھر ہی فائدہ ہے اگر آئندہ اچھے رویے کے حامل ججوں کا تقرر کیا جائے۔ دوسری طرف عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور بار کی موجودہ کابینہ کی ٹرم پوری ہونے تک سیشن جج زوار احمد شیخ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ بذات خود عدلیہ کےلئے انتہائی مشکل ہو گا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions