کراچی (آن لائن) متاثرین سوات کی سندھ میں آبادکاری کے خلاف جسقم (آریسر گروپ) نے آج سندھ بھر میں ہڑتال کی حمایت کر دی۔ دریں اثناء جسقم کے چیئرمین بشیر قریشی کی قیادت میں متاثرین کی آبادکاری کے خلاف کراچی کے علاقے ملیر میں سپرہائی وے پر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے متاثرین کے کیمپ کے باہر دھرنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق جسقم (آریسر گروپ) کی طرف سے مختلف شہروں میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے جن میں ہڑتال کے دوران کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی گئی۔ ایم کیو ایم کی حمایت کے بعد اتوار کی شام سے ہی کراچی میں سناٹا چھا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو گئی جبکہ سر شام ہی شہر کے بیشتر علاقوں میں سی این جی سٹیشن اور پٹرول پمپس بند کر دئیے گئے۔ پیر کو ہڑتال کے اعلان پر چھوٹے دکانداروں نے نقصانات سے بچنے کے لئے اتوار کو عام تعطیل کے باوجود اپنا کاروبار کھولا۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں 15سے 20فیصد چھوٹے کاروباری مراکز کھلے رہے جہاں خریداروں کی تعداد انتہائی کم تھی۔ جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کی سربراہی میں ملیر میں سپرہائی وے پر احتجاجی ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔ بشیر قریشی نے سندھ حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ 24گھنٹوں میں متاثرین کے کیمپس ختم کئے جائیں ورنہ احتجاج کا دائرہ پورے سندھ تک بڑھایا جائے گا اور ہمارے کارکنان ان کیمپوں کو اکھاڑ دیں گے۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے پیر کے روز جسقم کی ہڑتال کی وجہ سے گاڑیاں جلنے کے خطرات کے پیش نظر اتوار کی شام سے پیر تک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے کہا ہے کہ 23مئی کو حکومت سندھ کی اتحادی جماعت کے کارکنوں نے گاڑیاں جلائیں‘ حکومتی چشم پوشی اور کھلی دہشت گردی کا یہی حال رہا تو تنگ آکر تمام بسیں‘ منی بسیں اور کوچز وزیراعلیٰ ہائوس پر جاکر کھڑی کر دی جائیں گی۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ جس کے باعث شہر میں کشیدگی ہے۔
جسقم ہڑتال
Post New Comment