کراچی (کرائم رپورٹر + نمائندہ خصوصی + بی بی سی+ نیوز ایجنسیاں) عوامی نیشنل پارٹی کے رکن قومی اسمبلی پرویز خان کے بھائی آصف جان سمیت مزید 2 افراد کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن گئے ہےں، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر کشیدگی نے جنم لے لیا ہے۔ 56 سالہ آصف جان، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں اسسٹنٹ اکاﺅنٹس آفیسر تھے۔ پیر کی سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے وہ سوک سینٹر میں دفتر سے چھٹی کرکے ڈرائیور نثار محمد کے ہمراہ کار گھر جانے کے لئے روانہ ہوئے تو چند گز کے فاصلے پر کے ڈی اے پولیس سٹیشن کے نزدیک ایک موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے فائرنگ کرکے آصف جان کو قتل کر دیا۔ مقتول آصف جان نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔ ان کا تعلق صوابی کے علاقے جاگیرہ سے تھا۔ پرویز خان نے کہا کہ میرے بھائی کا قتل ٹارگٹ کلنگ ہے۔ واردات کے بعد سخت کشیدگی پیدا ہوگئی اور اورنگی ٹاﺅن‘ قصبہ کالونی‘ پیر آباد‘ گلستان جوہر‘ کیماڑی اور سلطان آباد میں دکانیں بھی بند کرادی گئیں جبکہ مختلف علاقوں مےں فائرنگ ہوئی، رینجرز اور پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ مشتعل افراد نے سڑکوں پر آکر ہنگامہ آرائی، جلاﺅ گھیراﺅ اور پتھراﺅ بھی کیا۔ اس دوران کم از کم 2گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل نذر آتش کر دی گئی جبکہ متعدد بنکوں کو توڑ پھوڑ کے بعد لوٹنے کی کوشش کی گئی جس پر رینجرز اور پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف گیلانی، چیئرمین سینٹ فاروق نائیک، سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے پرویز خان کے نام اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات مےں اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے یقین دلایا کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ آصف جان کی میت آج صبح پی آئی اے کی فلائٹ پر اسلام آباد پہنچے گی جہاں سے اسے بذریعہ روڈ صوابی روانہ کی جائے گی۔ اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے قتل کی مذمت کی اور کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ اس قتل کے ذمہ دار بھی وی ہےں جو عبداللہ یوسف زئی کے قتل مےں ملوث ہےں۔ علاوہ ازیں عزیز بھٹی ٹاﺅن مےں حسن سکوائر پر نامعلوم افراد نے رکشہ ڈرائیور 65سالہ وسیم رضا درانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتول 5بچوں کا باپ تھا۔
Post New Comment