کراچی (ریڈیو نیوز) سپریم کورٹ بار اور سندھ ہائیکورٹ بار کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ عدلیہ کے خلاف سازشوں کا آغاز ہو چکا ہے لیکن وکلاءان کا مقابلہ کرنے کےلئے پہلے کی طرح متحد ہیں۔ قاضی انور رشید رضوی‘ محمود الحق‘ راجہ ذوالقرنین اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ججز کی تقرری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی رائے فوقیت رکھتی ہے۔ جسے تین ہفتے سے دبا کر رکھا گیا ہے۔ عدلیہ مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے لیکن وکلاءآزاد عدلیہ اور جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جن ججز نے ایک سے زائد رہائشی پلاٹ لئے ہیں وہ باقی پلاٹ واپس کر دیں۔ ریٹائرڈ ہونے والے ججز کا بطور ایڈہاک جج تقرر ججز کیس کے فیصلے کے منافی ہے۔ بار لیڈرز نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف موجودہ مہم این آر او پر سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کو متنازعہ بنانے کی سازش سے عدلیہ میں ججز تعینات نہ کرنے پر تشویش ہے۔
Post New Comment