کراچی(رپورٹ سالک مجید) بانی پاکستان قائداعظمؒ محمدعلی جناح کے اے ڈی سی میاں عطا ربانی نے کہا ہے قائد کی شخصیت بڑی مدبرانہ تھی وہ سوچ سمجھ کر فیصلے کرتے تھے نہ کسی کی جانب جھکاﺅ رکھتے تھے نہ رعایت کرتے تھے ان کے فیصلے میرٹ پر ہوتے تھے، میں نے انہیں کسی فیصلے پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے نہیں دیکھا۔ وقت نیوز کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہندوﺅں کی متعصبانہ سوچ اور مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے قائداعظم مسلمانوں کے علیحدہ وطن کی کوششوں پر مجبور ہوئے ورنہ وہ ہندوستان کی آزادی کےلئے جدوجہد کررہے تھے اور مسلم لیگ اور کانگریس کے قریبی تعلقات کے خواہشمند بھی تھے لیکن نہرو ‘ گاندھی اور دیگر متعصب ہندو رہنماﺅں کے روئیے سے بددل اور مایوس ہوکر قائد نے مسلمانوں کےلئے علیحدہ وطن پاکستان کی تحریک چلائی۔ انہوں نے کہا قیام پاکستان سے پہلے اور بعد قائداعظمؒ کی سوچ اور فیصلوں میں کوئی فرق نہیں آیا قائد نے دستور ساز اسمبلی کو دو ذمہ داریاں سونپی تھیں پہلی پاکستان میں رہنے والے ہر فرد کی جان و مال اور عزت کے تحفظ کو مسلم اور غیر مسلم کے امتیاز کے بغیر یقینی بنانا سب کو اپنی عبادت گاہوں میں آزادانہ عبادت کا حق دینا اور دوسری ایک ایسا دستور بنانا جس میں آزادانہ اور خودمختارانہ فیصلے ہوسکیں‘ شامل تھیں۔ ایک سوال پر عطا ربانی نے کہا قائداعظمؒ چاہتے تھے کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست بنے جہاں اسلام اور سنت کے اصولوں پر عمل کیا جائے لیکن وہ ریاستی امور کو مذہب سے مشروط کرنا نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے کہا موجودہ حکومت کی مفاہمتی پالیسی قائد کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی۔قائد مفاہمت کی بجائے اصولوں کی سیاست کرتے تھے۔ قائداعظمؒ زندہ ہوتے تو صوبہ سرحد کا نام کچھ بھی ہوسکتا تھا لیکن لسانی بنیاد پر نام نہ رکھنے دیتے اس زمانے میں پختونستان بنانے اور اسے افغانستان میں شامل کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں جو قائد کی زندگی میں کامیاب نہیںہوسکیں۔
Post New Comment