کراچی (ریڈیو نیوز) سال 2010ءمیں کراچی میں 1650 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جس میں 373 لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ مذہبی دہشت گردی کے نام پر 50لوگوں کی جانیں لے لی گئیں۔ شہر میں مختلف جگہوں پر پانچ بڑے دھماکے کئے گئے جس میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ پہلے دو دھماکے چہلم امام حسینؓ کے موقع پر نصب بم کے ذریعے ہوئے جس کے بعد عبد اللہ شاہ غازی کے مزارپر دو خودکش دھماکے کئے گئے۔ پانچواں دھماکا سی آئی ڈی کی عمارت میں خودکش حملہ آور نے ٹرک کے ذریعے کیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ قانون نافذ کرنےوالوں اداروں کی جانب سے درجنوں طالبان کمانڈروں اور دوسری کالعدم جماعتوں کے اراکین کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ ، گولہ بارود ، جہادی لٹریچر، کمپیوٹرز سمیت دیگر اشیاءبرآمد کرنے کا دعوی کیا گیا۔ سابق ڈائریکٹرملٹری انٹیلی جنس اور سابق سیکرٹری داخلہ سندھ بریگیڈئر (ر) غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ کراچی کے حالات ایسے ہی رہیں گے کیو نکہ پولیس کو اسلحہ اور آلات دینے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک پولیس کی نفری میں اضافہ اور تربیت پر خصوصی توجہ نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو سزائیں نہیں مل رہیں۔ وہ جیلوں میں تو ہیں لیکن وہاں بیٹھ کر بھی وہ منصوبہ بندی میں مصروف رہتے ہیں۔ طالبان کو سب سے زیادہ مالی تعاون کراچی سے ملتا ہے جو کہ زکوة اور دوسرے عطیات کی صورت میں ہوتا ہے۔ کالعدم جماعتوں کے لوگ کراچی میں بینک ڈکیتیاں کر کے بھی پیسہ اپنی تنظیموں کو بھیجتے ہیں۔ حالات مزید خراب ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں جس کو صرف ماچس دکھانے کی ضرورت ہے۔
Post New Comment