کراچی (ریڈیو مانیٹرنگ + رپورٹ بچل لغاری + جی این آئی) حساس اداروں اور سی آئی ڈی پولیس نے کراچی میں سپر ہائی وے پر ٹول پلازہ کے قریب چھاپہ مار کر اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی اور القاعدہ کے اہم کمانڈر ابو یحییٰ غدن کو گرفتار کر لیا۔ ابو یحییٰ غدن القاعدہ کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل تھے۔ ان کے سر کی قیمت 10 لاکھ ڈالر مقرر تھی۔ تاہم سرکاری طور پر گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔ وہ امریکی شہری اور عربی نژاد ہیں۔ ابو یحییٰ غدن القاعدہ کے ترجمان اور میڈیا ایڈوائزر بھی اس کو 2002ءمیں گرفتار کیا گیاتھا اور بگرام ایئر فورس بیس افغانستان میں بند کیا گیا تھا مگر وہ 10 جولائی 2005ءکی شب جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ مختلف ناموں سے دنیا بھر میں القاعدہ کی عالمی جہادی تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کا شمار القاعدہ کے مذہبی رہنما اور اعلیٰ قیادت میں ہوتا ہے وہ لیبیا کے اسلامی جنگجو گروپ کا بھی اہم رکن تھا وہ شاعر ہے ، پشتو او رعربی زبان پر عبور رکھتے ہیں ۔ انکو القاعدہ کا نظریاتی مجاہد کمانڈر قرار دیا جاتا ہے وہ دنیا بھر کے عسکریت پسند بمباروں میں اپنی خطابت اور عسکری کارناموں کی وجہ سے ہیرو تصور کئے جاتے تھے۔ انہیں اسامہ بن لادن کے بعد القاعدہ کی قیادت کے منصب کا حقدار سمجھا جاتا ہے۔ 9/11 کے سانحہ کے ایک سال بعد امریکی فوجوں نے افغانستان پر حملہ کیا ۔ اس وقت پاکستانی حکام نے ابویحییٰ کو گرفتار کرکے امریکی حکام کے حوالے کردیا تھا۔ ابویحییٰ نے جولائی 2009ءمیں سوات میںپاکستان کی مسلح افواج کے خلاف آپریشن راہ نجات کی مخالفت کر تے ہوئے سوات فتح یا شہادت کے عنوان سے بھی ایک ویڈیو ٹیپ جاری کی تھی۔
Post New Comment