تازہ ترین:

کراچی :مقامی کاٹن مارکیٹ میں ٹیکسٹائل و سپننگ ملز کی خریداری جاری‘ کپاس کے بھاﺅ میں استحکام

ـ 8 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

کراچی (اے پی پی) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی خریداری جاری رہنے کے باعث کپاس کے بھاﺅ میں مجموعی طور پر استحکام رہا۔ روئی کے بھاﺅ میں اضافہ کے سبب کپاس کے نجی برآمد کنندگان مارکیٹ سے باہر ہوگئے۔ نیویارک کاٹن مارکیٹ میں بھی گزشتہ ایک مہینہ کے دوران روئی کے وعدے کے بھاﺅ میں فی پاﺅنڈ 10 امریکی سینٹ کی نمایاں کمی واقع ہوئی تاہم ملک میں کپاس کی پیداوار کھپت کی نسبت کم ہونے کے سبب روئی کے بھاﺅ میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 25 روپے کم کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 4625 روپے پر بند کیا۔ مقامی منڈی میں روئی کا بھاﺅ مستحکم رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جنرز کے پاس روئی کی صرف 8 لاکھ گانٹھوں کا قلیل اسٹاک موجود ہے جبکہ نیا سیزن شروع ہونے میں پانچ مہینے باقی ہیں۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے مطابق اپریل، مئی، جون تین ماہ میں جنرز کے پاس کپاس ناپید ہوگی۔ مقامی ٹیکسٹائل ملز کو روئی بیرون ممالک سے درآمد کرنا پڑے گی۔ تاحال بھارت اور دیگر ممالک سے کپاس کی تقریباً 7 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کرلئے گئے ہیں جبکہ مقامی ٹیکسٹائل ملز کو مزید تقریباً 20 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ ہفتہ کے دوران صرف 4 دن ہی کاروبار ہو سکا۔ صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاﺅ فی من 4550 روپے تا 4800 روپے رہا، پھٹی کا بھاﺅ فی 40 کلو گرام 2050 تا 2340 روپے، بنولہ کا بھاﺅ فی من 850 روپے تا 875 روپے، بنولہ تیل کا بھاﺅ فی من 3450 روپے رہا۔ پاکستان کاٹن جنرز کی جانب سے یکم فروری تک کپاس کی پیداوار کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 25 لاکھ گانٹھیں رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کی پیداوار کی نسبت 17 لاکھ گانٹھیں زیادہ ہے۔ صوبہ سندھ میں کپاس کی پیداوار گزشتہ سال کی نسبت 44 فیصد زیادہ رہی۔ یارن کے بھاﺅ میں استحکام پایا گیا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions