الطاف حسین امریکی منصوبے کے مطابق ٹیکنو کریٹ حکومت بنانے کیلئے سرگرم ہیں: ذرائع

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

کراچی (خصوصی رپورٹ) ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ الطاف حسین کی طرف سے مارشل لا جیسے اقدام کی دعوت اور ملک میں ٹیکنو کریٹ حکومت کے لئے لابنگ امریکی حمایت سے شروع ہوئی، اس مقصد کی خاطر ہوم ورک تقریباً ایک برس سے زائد عرصے سے جاری تھا۔ الطاف نے امریکیوں کے کہنے پر اس منصوبے کو بے نقاب کیا تاکہ بحث شروع کی جا سکے۔ کچھ اور کارنرز میں بھی منصوبے کی دوسری کڑیوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے، پروجیکٹ کے انچارج امریکی سفارت کار برائن ڈی ہنٹ پاکستان سے تبادلے کے دو ہفتے بعد ہی واپس پاکستان تعینات کر دئیے گئے۔ عمران خان کو ٹیکنو کریٹ حکومت میں وزیراعظم بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمنٹ کا وجود ایک ایسے موقع پر سنگین خطرہ بن سکتا ہے جب وہ افغانستان سے نکل رہے ہوں گے، کیونکہ منصوبے کے مطابق امریکہ افغانستان سے نکلتے ہوئے پاکستان میں اپنی قوت بڑھانے کی خواہش رکھتا ہے مگر پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد نے اسے چوکنا کر دیا ہے۔ امریکیوں کو خطرہ ہے کہ حکومت کی کمزور گرفت کے سبب پارلیمنٹ کسی بھی لمحے کوئی ایسا فیصلہ کر سکتی ہے جو اس کے لئے ناخوشگوار صورت حال پیدا کر دے لہٰذا امریکیوں کو ضرورت ہے کہ وہ فرد واحد سے ڈیل کریں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکی گذشتہ ایک برس سے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی ایک فرد کو مہرہ بناکر کھیلیں۔ اس مقصد کی خاطر پہلے انہوں نے صدر پاکستان پر توجہ دی مگر بعدازاں انہیں اپنی توجہ کا رُخ بدلنا پڑا ان دنوں وہ آرمی چیف سے رابطے بہتر خیال کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہالبروک نے گذشتہ دنوں بیان دیا کہ پاکستان میں صرف جنرل کیانی واحد شخص ہے جو فیصلہ کرنے اور اس پر عملدرآمد کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ذرائع کے مطابق فوج کسی غیرآئینی تبدیلی پر تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکی منصوبے کے تحت ہی مختلف این جی اوز اور سماجی کارکنوں کے ذریعے عمران خان سے بھی روابط تھے اور بعض نامور تجزیہ نگار، اخبار نویس اور اخباری گروپس کو بھی رابطے میں رکھا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بالآخر عمران خان کو وزارت عظمیٰ دینے کا وعدہ کرکے ایک نظام کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے جس کی رونمائی الطاف حسین نے بنگلہ دیش سٹائل اور ڈیگال سٹائل میں کہہ کر کر دی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکی پروجیکٹ کے انچارج برائن ڈی ہنٹ نے اپنی ٹرانسفر کے بعد جولائی کے وسط میں لندن میں الطاف حسین اور پاکستان کے دیگر کئی سیاست دانوں اور ٹیکنوکریٹس سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی کرپٹ حکومت کو بدلنے کے لئے صلاح و مشورہ کیا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس دوران عمران خان سے بھی امریکی منصوبہ سازوں کی ملاقاتیں رہیں۔ اس سارے عمل میں امریکی پینٹاگون کے ایسوسی ایٹ تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کا تذکرہ بھی آتا ہے جس نے اس منصوبے کے خدوخال وضع کئے جس پر امریکی حکومت عمل پیرا ہے، منصوبے کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کو بہانہ بناتے ہوئے عسکری قیادت پر دباﺅڈالا جائے گا کہ وہ حکمرانوں کو چلتا کرے اور عمران خان کی زیرقیادت ایک ٹیکنو کریٹ حکومت بنا دی جائے۔ اسلام آباد میں بعض ذرائع نے نئے سوٹ پہن کر انتہائی مصروف ہو جانے والے بعض ریٹائرڈ جرنیلوں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ سب لابنگ کر رہے ہیں کہ نئی حکومت میں انہیں بھی جگہ مل جائے جبکہ برائن ڈی ہنٹ نے بھی پاکستان آتے ہی سیاسی رہنماﺅں اور ٹیکنو کریٹس سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ متحدہ کے لوگ ان سے ایک سے زائد مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دلچسپ امر یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اس پر پریشان نہیں بلکہ اس کے کم از کم دو اہم وزرا بھی ان سے رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ حکومت کے کچھ نہ کرنے کا پروپیگنڈا اور اس کے ساتھ ساتھ عمران کی تشہیر کا مقصد بھی اس کے سوا کچھ نہیں کہ انہیں واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جائے، حالانکہ جتنے فنڈز انہیں حاصل ہوئے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن اور الخدمت والے خرچ کر چکے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions