متحدہ کی دھمکیوں پر کراچی میں 200 کوئٹہ وال ہوٹل مستقل بند

ـ 1 ستمبر ، 2010
  • Adjust Font Size

کراچی (خصوصی رپورٹ) متحدہ قومی موومنٹ کے دہشت گردوں نے رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد سے مختلف علاقوں میں کوئٹہ وال کے 2 سو سے زائد ہوٹل بند کروا دیئے ہیں اور ان کی جگہ اپنے کارکنوں کے ہوٹل کھلوائے جارہے ہیں جبکہ کوئٹہ وال ہوٹلوں کے مالکان کو ہوٹل کھولنے کی صورت میں قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق ناظم آباد کے علاقے میں 2 اگست متحدہ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد متحدہ کے دہشت گردوں نے 4 روز میں سے 91 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر ہوٹل والے، بس اور ٹیکسی ڈرائیور اور نان بائی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق متحدہ کے دہشت گردوں نے جان بوجھ کر ہوٹل والوں اور ڈرائیوروں کو چن چن کر قتل کیا اور اپنے علاقوں میں پشتون افراد کے ہوٹل اور دیگر کاروباری مراکز بند کروا دیئے تھے جو تقریباً ایک ماہ بعد بھی بند پڑے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹاﺅن میں متحدہ نے اپنے کارکنوں اور ہمدردوں کے ہوٹل کھلوا دیئے ہیں جبکہ لیاقت آباد، گلبرگ، نیو کراچی سمیت متحدہ کے زیراثر مختلف علاقوں میں کوئٹہ وال کے ہوٹل بند پڑے ہیں، صرف بلدیہ، کیماڑی اور کلفٹن میں ہوٹلز کھلے ہوئے ہیں۔ ایک کوئٹہ ہوٹل کے مالک نے بتایا کہ ہوٹل کھولنے سے متحدہ کے دہشت گردوں نے منع کیا ہوا ہے اگر ہوٹل کھولا تو وہ حملہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ کے دہشت گرد اپنے ساتھیوں اور ہمدردوں کے ذریعے ان ہوٹلوں کو کوڑیوں کے بھاﺅ خریدنے میں لگے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پشتون اور کوئٹہ وال افراد کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کے بعد ہوٹلز کھولنے کے حوالے سے نئی حکمت عملی بنائی جائے گی۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions