اسلام آباد (جی این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے اور امدادی سرگرمیوں و بحالی کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس اسی ہفتے طلب کر لیا گیا ہے۔ متاثرین سیلاب کے تمام قرضے معاف نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے بنک دیوالیہ ہو جائیں گے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اوور سائیٹ کونسل پر کسی صوبے نے ابھی تک نام نہیں دئیے۔ سندھ کے علاوہ کسی صوبے نے سیلاب سے ہونیوالے نقصانات سے آگاہ نہیں کیا۔کائرہ نے کہا کہ ابھی فلڈ ٹیکس لگانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے‘ حکومت ضرورت کے تحت فیصلے کرے گی‘ بجٹ میں کٹوتی کی جائے گی‘ این جی ا وز کے بارے میں وزیراعظم گیلانی کے ریمارکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس کی وضاحت کر دی تھی اینکر پرسن ان کی بات سے نہ کھیلیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے جس کی فنڈنگ وفاقی حکومت کرتی ہے‘ امدادی سرگرمیوں میں اخراجات حکومت ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں نے نگران کونسل کے بارے میں ابھی تک نام نہیں دئیے‘ مشترکہ مفادات کونسل اجلاس کی تاریخ کے لئے صوبوں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔ سعودی حکومت کی متاثرین کے لئے امداد کی پہلی کھیپ کے 800 ٹرکوں کی متاثرہ علاقوں کو روانگی کے موقع پر انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ کی طرف سے سیلاب زدگان کی امداد کے بھرپور شکرگذر ہیں‘ زلزلہ ہو یا سیلاب سعودی حکومت اور عوام نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
Post New Comment