اسلام آباد (آن لائن) حکومت نے قومی اسمبلی میں اعتراف کیاہے کہ کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کو ابھی تک کسی قسم کی کوئی مالی مدد نہیں ملی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو چوہدری برجیس طاہر کے سوال کے جواب میں تحریری طور پر آگاہ کیا کہ امریکی کانگریس نے کیری لوگر بل ستمبر 2009ءمیں منظور کیا تھا لیکن اس پر ابھی عمل درآمد مکمل نہیں ہوسکا۔ امریکی محکمہ خارجہ یو ایس ایڈ پراجیکٹ اس کی ڈیزائننگ اور تعمیر پر عمل درآمد کرےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ کیری لوگر بل کی پیروی کررہی ہے اور اقتصادی امور ڈویژن یو ایس ایڈ کے ساتھ مصروف عمل ہے اور وہ مزید پیش رفت کےلئے کسی طریقہ کار پر پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے امریکہ اور برطانیہ سمیت 18 ممالک میں تعینات کئے جانےوالے پاکستانی سفارتکاروں کی فہرست بھی پیش کی اور بتایاکہ ان کی تقرری کا اختیار وزیراعظم کو ہوتا ہے اور یہ تمام 18 سفارتکار نان کیریئر ہیں جن میں امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 79 ممالک کے سفارتخانے قائم ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران دریں اثناءوفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے وزیر خزانہ شوکت ترین کے موقف کو جھٹلاتے ہوئے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ رواں مالی سال وزارت صحت کے ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ وفاقی وزیر خوراک نذر محمد گوندل نے ایوان کو بتایاکہ اس وقت ملک بھر میں آٹا گذشتہ سال کے مقابلے میں سستا ہے۔ ملک میں خوراک کی اشیاءکی کوئی کمی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر خوراک نذر محمد گوندل نے کہاہے کہ دھان کی فصل خرید کر حکومت نے کاشتکاروں کو 27 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ہے۔ وفاقی وزیر صحت مخدوم شہاب الدین نے کہاکہ 2009ءکے دوران ملک بھر میں پولیو کے 90 کیس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ ایک سوال کے تحریری جواب میں انہوں نے بتایاکہ رواں سال 2009-10ءکے دوران عالمی اداروں نے صحت کے شعبے کےلئے 43 ملین ڈالر کی امداد پاکستان کو دی ہے جس میں سے اب تک صرف 11 ملین ڈالر خرچ ہو سکے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ حکومت زرعی شعبہ میں بجلی کے ٹیرف پر 25 فیصد سبسڈی دے رہی ہے۔ دریں اثناءوزیر داخلہ رحمن ملک کہا کہ تین صوبوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے غیر ممالک نے گذشتہ پانچ سالوں کے دوران کوئی مالی امداد نہیں دی ہے جبکہ صوبہ سرحد میں پولیس کو امریکی سفارت خانے نے 2008-09ءمیں ایک کروڑ 48 لاکھ 20 ہزار روپے کے فنڈز ملے۔ یہ رقم آئی ڈی پیز اور فلڈ ریلیف کاموں کے حوالے پٹرول و گاڑیوں کی مرمت کی مد میں خرچ ہوئے۔
Post New Comment