چیئرمین کی عدم تقرری سے نیب کے تمام کام ٹھپ ہو کر رہ گئے

ـ 30 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (قاضی بلال)حکومت کی جانب سے چیئرمین نیب کی عدم تقرری نامکمل الیکشن کمیشن اور لاہور اور بلوچستان ہائیکورٹس میں ججوں کی تعداد پوری نہ ہونے سے ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیںاس کے علاوہ ایف آئی اے میں بھی ڈیپوٹیشن پر تقرریاں معمول بن گئیں ہیں جس سے اس ادارے کی کارکردگی بھی صفر ہو کر رہ گئی ہے ۔دوسری جانب حکومت کی اپنے ہر دلعزیز لوگوں پر نوازشات جاری ہیں جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہاہے ۔ ذرائع کے مطابق قائم مقام چیئرمین کی تقرری کی وجہ سے نیب میں تمام کام ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں یہی وجہ ہے نیب میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے اندرون خانہ اپنے سیکرٹری کیخلاف انکوائری مکمل نہ کرنے کے بعد انہیں پھنسانے کیلئے درخواست دیدی گئی مگر نیب کے قائم مقام چیئرمین جاوید ضیاءقاضی کی اہلیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے جو حکومت کی ایک ناکامی تصور کی جا رہی ہے چیئرمین نیب کے تقرر کیلئے سپریم کورٹ متعدد بار بار احکامات جاری کر چکی ہے مگر اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے پی ایم ڈی سی میں ایک مافیا سیکرٹری ڈاکٹر سہیل کریم ہاشمی کو ہٹانے کیلئے سرگرم ہے اس تنظیم کی صدر سید سبط الحسنین لاہور میں بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں جبکہ اس ادارے کے سارے انتظامات صدر آصف علی زرداری کے معالج ڈاکٹر عاصم حسین چلا رہے ہیں جو نہ وزیر ہیں اور نہ ہی حکومتی مشیر ہیں اس کے باوجود وہ منسٹر انکلیو میں رہائش پذیر ہیں اور وفاقی وزیر کے برابر مراعات بھی حاصل کر رہے ہیں اور دو کروڑ روپے کی بلٹ بروف گاڑی بھی استعمال کر رہے ہیں ذرائع کے مطابق ڈاکٹروںکی ایک معتمد تنظیم نے پی ایم ڈی سی پر عدم اطمینان کیا ہے دوسری جانب الیکشن کمیشن 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد نامکمل ہے ابھی تک اس کے چار ممبران ججز کی تقرری نہیںکی گئی ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر بغیر مشاورت کے اپنے صوابدیدی اختیارات کے ذریعے کام چلا رہے ہیں ۔ لاہور اور بلوچستان میں ججوں کی تقر ری کا معاملہ بھی کافی عرصہ سے زیر التواءہے ۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions