اسلام آباد(سجاد ترین/ خبر نگار خصوصی) قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ممبر حامد یار ہراج کو سی ڈی اے نے اربوں روپے کا پلاٹ ڈپلومیٹک انکلیو اسلام آباد میں کوڑیوں کے بھاو دے دیا۔ سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے پلاٹ کی غیر قانونی الاٹ منٹ کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اُوپر سے بہت زیادہ دباو تھا جس پر جلدی میں پلاٹ الاٹ کر دیا گیا۔ یکم دسمبر2007ء کو سی ڈی اے کی جانب سے حامد یار ہراج کو سکول کے نام پر اڑھائی ایکڑ کا پلاٹ الاٹ کیا گیا تھا۔ سی ڈی اے کی پالیسی کے مطابق پلاٹ صرف اسلام آباد کے اندر اور اطراف میں موجود سکولوں کو فراہم کئے جانے تھے مگر سی ڈی اے نے خاموشی سے حامد یار ہراج کو ایک 5 ایکڑ کا پلاٹ جس میں اڑھائی ایکڑ گرین بیلٹ اور ڈھائی ایکڑ کا پلاٹ الاٹ کر دیا۔ سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حامد یار ہراج کو جو پلاٹ الاٹ کیا گیا ہے اس کے بارے میں اخبار میں کوئی اشتہار نہیں دیا گیا تھا اور حامد یار ہراج کے علاوہ دو دیگر لوگوں کو بھی سکول کے نام پر پلاٹ الاٹ کئے گئے جن کے اسلام آباد میں کوئی تعلیمی ادارے نہ تھے۔ سی ڈی اے نے فوری طور پر حامد یار ہراج کو ڈپلومیٹک انکلیو میں ایک پلاٹ جو 5 ایکڑ کا تھا الاٹ کیا۔ پالیسی کے مطابق پلاٹ کی الاٹمنٹ کے 30 ماہ کے اندر سکول کی تعمیر کرنا تھا مگر ابھی تک عمارت تعمیر نہیں کی گئی۔ نوائے وقت کو حاصل سرکاری دستاویزات کے مطابق 2007 ء میں وزیر مملکت برائے تجارت جو اس وقت قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے ممبر ہیں) کو امریکن سکول آف اکیڈمکس کے لئے اڑھائی ایکڑ کا پلاٹ الاٹ کیا گیا۔ سی ڈی اے کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کا سی ڈی اے بورڈ پر شدید دباو تھا جس پر سی ڈی اے نے اپنی پالیسی کے خلاف اس شخص کو الاٹ کر دیا۔
Post New Comment