اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی مدد اور بچا¶ کے بعد حکومت کے سامنے متاثرین کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کا بڑا کام ہو گا۔ سیلاب کی وجہ سے کمیونیکیشن کا نیٹ ورک بھی تباہ ہوا ہے اسے بحال کریں گے۔ وزیراعظم نے یہ بات جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ جنہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ تمام سول سوسائٹی اور محب وطن قوتیں حکومت کی ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں ہاتھ بٹائیں۔ حکومت سیلاب زدہ لوگوں کے مصائب کم کرنے کے لئے اپنے تمام وسائل کو استعمال کر رہی ہے۔ عزم اورمشترکہ کوششوں سے سیلاب زدگان کی مشکلات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہوئی ہے وہ 2005ءکے زلزلہ میں ہونے والی تباہی سے کہیں زیادہ ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قدرتی آفت کے باعث لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کے لئے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے متاثرین کی مشکلات میں کمی کے لئے حکومت کی کوششوں میں مدد کے لئے اپنی جماعت کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ وزےراعظم گےلانی نے عزم کےا کہ سےلاب زدہ علاقوں مےں امداد، بحالی اور تعمےرنو کے حوالے سے وفاق اور صوبوں مےں رابطوں کا فقدان نہےں ہونے دےں گے۔ وفاقی حکومت ہم آہنگی کی فضا کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سے آگاہ ہے۔ سےاسی و جمہوری قوتےں موجودہ مشکل حالات سے نبردآزما ہونے کی مکمل صلاحےت رکھتی ہےں۔ ملاقات میں سیلاب زدہ علاقوں بالخصوص خےبر پی کے کے متاثرےن سےلاب کی صورتحال، صوبوں مےں فنڈز کی تقسےم، سےاسی صورتحال اور دےگر امور پر بھی تبادلہ خےال کےا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے بغےر بحالی و تعمےرنو کو مکمل نہےں کےا جا سکتا۔ وزےراعظم نے کہا حکومت کی ساکھ کو کوئی مسئلہ نہےں ہے۔ متاثرےن کی امداد کے لےے عالمی برادری سے فنڈز مل رہے ہےں۔ ملکی سطح پر بھی عطےات جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزےراعظم نے کہا کہ نقصانات کی بنےاد پر ہی متاثرہ علاقوں مےں فنڈز کی تقسےم کو ےقےنی بناےا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں موجودہ صورت حال میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا گیا، وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمن کی صدر سے ملاقات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اتحادیوں کے درمیان اختلافات ختم ہوں گے۔ ملاقات میں جے یو آئی (ف) کے ساتھ حکومتی معاہدوں پر عملدرآمد کا معاملہ بھی زیر غور آیا، فضل الرحمن نے مولانا شیرانی کو اسلامی نظریہ کونسل کا ابھی تک چیئرمین مقرر کرنے کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ہم اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر گامزن ہیں‘ جے یو آئی (ف) کے ساتھ معاہدوں کی پاسداری کی جائے گی۔ وزیراعظم گیلانی سے وزیر نجکاری سینیٹر وقار احمد خان نے ملاقات کی اور وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ کے لئے 20 کروڑ روپے کا امدادی چیک پیش کیا۔ وزیراعظم گیلانی نے سیلاب متاثرین کی امداد کے حوالے سے سرکاری ملازمین کے جذبہ کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب زدگان کے لئے قوم کی فکرمندی پاکستانی نیشنلزم کا حقیقی مظاہرہ ہے۔ ترک ہلال احمر سوسائٹی کے ڈی جی عمر طسلی سے ملاقات میں وزیراعظم گیلانی نے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ متاثرین سیلاب کی امداد اور بحالی بالخصوص وبائی امراض کی روک تھام میں پاکستان کی بھرپور معاونت کریں، سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے بڑے پیمانے پر صاف پانی، طبی آلات سے لیس موبائل کلینکس اور ادویات کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے 2005ءکے زلزلہ کے بعد متاثرین کی مدد اور بحالی میں ترک ہلال احمر کے قابل قدر کردار کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ موجودہ قدرتی آفت میں بھی اسی جذبہ کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اس قدرتی آفات کے دوران پاکستانی ہلال احمر اور دیگر تنظیموں کو زیادہ مو¿ثر بنانے کیلئے ان کی تربیت کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے مشکل کی اس گھڑی میں ترکی کی حکومت کی طرف سے پاکستانی بھائیوں کی مشکلات میں کمی لانے کیلئے معاونت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور بالخصوص ترک وزیراعظم کی اہلیہ کی طرف سے آئندہ ماہ اس سلسلہ میں پاکستان کے دورے کا بھی ذکر کیا گیا۔ عمر طسلی نے وزیراعظم کو بتایا کہ ترک ہلال احمر سوسائٹی نوشہرہ اور مظفرگڑھ میں خیمہ بستیاں قائم کر کے متاثرین کو خوراک اور طبی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار جنوبی پنجاب کے دیگر متاثرہ علاقوں تک پھیلایا گیا ہے۔ آئندہ چند روز میں ترکی سے مزید دو موبائل ہسپتال 12 سو ٹن پھل اور دو ہزار خیمے پاکستان پہنچ جائیں گے جنہیں جنوبی پنجاب میں تقسیم کیا جائے گا۔ وفد میں ترک ہلال احمر کے پاکستان میں نمائندہ حقی عروزے اور بحالی پروگرام کوآرڈینیٹر البے الیوسا شامل تھے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ بیت المال اور وزارت زکوٰة وعشر کی متاثرین کی مدد کے حوالے سے کارکردگی کے جائزہ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو عید سے قبل شیلٹرز کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کر کے امداد کو ہر صورت شفاف بنایا جائے تاکہ اصل حقدار تک اس کا حق پہنچے۔ اہداف کے حصول کیلئے تمام اداروں کا آپس میں بہتر تعلق قائم کیا جائے اور اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔
گیلانی
Post New Comment