صدر نے مسلم لیگی قیادت کو 17ویں ترمیم کی تنسیخ اور میثاقِ جمہوریت پر عملدرآمد کا روڈمیپ دیا دونوں دسمبر میں دوبارہ ملیں گے:بابر اعوان

ـ 28 اکتوبر ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگی قیادت کو آئین میں 17ویں ترمیم کی تنسیخ اور میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے روڈمیپ دے دیا ہے آئندہ 50 سے 60 ایام کے اندر متفقہ طور پر تیار کی گئی 18 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی لٰہذا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ خصوصی کمیٹی جلد ایک جامع آئینی پیکج تیار کرے گی جسے تمام پارلیمانی گروپوں کی تائید حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بات منگل کو ”نوائے وقت“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی‘ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے درمیان نومبر یا دسمبر 2009 ءمیں ایک اور ملاقات ہوگی‘ ایوان صدر کی قیادت نے باہم مسلسل رابطے قائم رکھنے پر اتفاق رائے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس بات کی مثال نہیں ملتی کہ دو متحارب سیاسی قوتیں مل بیٹھی ہوں اور آج کی اپوزیشن ماضی کی اپوزیشن سے قطعاً مختلف ہے آج کی اپوزیشن جمہوری حکومت کو گرانے کی کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں‘ لٰہذا آصف زرداری ‘ نوازشریف ملاقات کا یہ بڑا کریک تھرو نہیں تو اور کیا ہے۔ آصف علی زرداری‘ نوازشریف ملاقات ملک کے جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتارنے کے خواہش مند عناصر اور بیرونی قوتوں کے لئے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ ملک کے جمہوری نظام کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘ اور وہ ملک کو دوبارہ 80 اور 90 کے عشرے کی سیاست میں نہیں دھکیلنا چاہتے‘ ملاقات کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا لیکن ان ایشوز پر بات چیت ہوئی جن پر دونوں جماعتوں کے درمیان پہلے سے اتفاق رائے ہے صرف ان پر عملدرآمد کے لئے بات چیت آگے بڑھی ہے اس لئے ایجنڈا میں کوئی ناکامی نہیں ہوئی ہے۔ ہیلری کلنٹن کی آمد سے قبل دو بڑی سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ سیاسی تنازعات و ایشوز کو سیاسی طور پر حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان عدالتی و انتظامی اصلاحات لانے پر اتفاق رائے ہوا ہے۔
بابر اعوان

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions