واشنگٹن + لندن (نمائندہ خصوصی +ایجنسیاں) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ جے کراو¿لی نے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں سرگرم غیر ملکی امدادی کارکنوں پر طالبان کے ممکنہ حملوں سے متعلق رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس خطرے سے نمٹنے کےلئے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کرکام کر رہا ہے جبکہ صورتحال پر محتاط انداز میں نظر رکھی جا رہی ہے ،پاکستان میں مارشل لا کی حمایت نہیں کرینگے سویلین حکومت قائم ہے اور یہی بہترین طرز حکومت ہے ۔ گزشتہ روزمعمول کی پریس بریفنگ کے د وران ترجمان نے کہاکہ یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹر راجیو شاہ نے سیلاب کی صورتحال میں پاکستان کی فوری ضروریات سے نمٹنے کےلئے 5کروڑ ڈالر اضافی امداد کا اعلان کیا ہے اور یہ رقم کیری لوگر بل سے منتقل کی جائے گی۔ راجیو شاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ فنڈز سیلابی پانی اترنے کے بعد ریلیف کی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لیے فراہم کئے جائیںگے پانچ کروڑ ڈالر کی رقم کیری لوگر بل میں بلاک کردی گئی ہے اور اس کے لیے نئی ہدایت جاری ہوگی کہ اسے سیلاب کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طورپرکام میں لایا جائے۔ ترجمان کے مطابق پانچ کروڑ ڈالر اضافی امداد کے اعلان کے بعدامریکہ کی جانب سے سیلا ب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اوربحالی کےلئے مجموعی طورپر 20 کروڑ ڈالر کی رقم استعمال کی جائے گی۔ علاوہ ازیں برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے اپنا نام نہ بنانے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد دہشت گرد متحرک ہو گئے ہیں اور وہ امداد کی آڑ میں اپنے اثرات بڑھا رہے ہیں جبکہ امریکی سفارتخانے کے مطابق اگرچہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے باعث افغانستان جانے والے ساز و سامان کی ترسیل سست روی کا شکار ہوئی ہے تاہم نیٹو کی سپلائی متاثر نہیں ہوئی۔
امریکہ
Post New Comment