”اقربا پروری نے ادارے تباہ کر دئیے ‘حکمرانوں کے احتساب کا کوئی نظام نہیں“

ـ 26 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ مانیٹرنگ نیوز) سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اقرباپروری نے ہمارے اداروں کو تباہ کردیا ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں کے احتساب کا کوئی نظام نہیں ہے۔ اسلام آباد میں ایک سیمینار کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت ترین نے کہا کہ اقرباپروری کو ختم کئے بغیر معاملات درست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے اختلافات ہیں لیکن استعفیٰ اس وجہ سے نہیں دیا۔ ملکی معیشت مضبوط کرنے کیلئے سیاسی طور پر مضبوط ہونا ہوگا۔ کابینہ کے اجلاسوں میں بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہوں کہ حکمرانوں کے احتساب کا کوئی نظام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بنک (سلک بنک) شدید مشکلات کا شکار ہے اور ورہ اس کو بچانے کیلئے بطور وزیر خزانہ سرمایہ جمع نہیں کرنا چاہتا تھا اور استعفیٰ دیکر گڈگورننس کی ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے 9 نکاتی ایجنڈے پر عمل کیلئے حکومت کو سیاسی عزم کی بھی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اور سرمایہ کاری کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو کولیکشن بڑھانے اور کفایت شعاری کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں قرضے اٹھانے کی بجائے پاﺅں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرکلر ڈیٹ کے مسئلے کو 27 فروری کے اجلاس میں حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے حکومت کو بجلی کی پیداوار کے لئے فرنس آئل اور گیس کے کم از کم استعمال کیلئے حکمت عملی بنانا چاہئے۔ قبل ازیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی کیلئے نئی نسل پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال میں وزارت کو چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ بجلی گھروں کے حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ پر من و عن عمل کیا جائے۔
شوکت ترین

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions