آئینی اصلاحات کمیٹی کا مشترکہ مفادات کونسل کو مزید فعال بنانے پر اتفاق

ـ 26 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے آئین میں کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم مسلم لیگ ق کے سینیٹر ایس ایم ظفر نے کنکرنٹ لسٹ کو کلی طور پر ختم کرنے کی مخالفت کی۔ جمعرات کو خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین میاں رضا ربانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مشترکہ مفادات کونسل کو فعال‘ متحرک اور مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا آئین کے آرٹیکل 153, 152 اور 154 پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں وزیراعظم کی رکنیت لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی جبکہ اس کا اجلاس 120 روز میں منعقد کرنا لازمی قرار دیا جائیگا۔ اجلاس میں طے پایا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا مستقل سیکرٹریٹ قائم کیا جائے خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ایس ایم ظفر نے کنکرنٹ لسٹ کو ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کنکرنٹ لسٹ مضبوط وفاق کے لئے بہت ضروری ہے اسے یکسر ختم کرنا مناسب نہیں اس میں سے کچھ محکمے کنکرنٹ لسٹ میں رہنا ضروری ہیں۔ خصوصی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات نے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل سے متعلقہ آئین کے آرٹیکل 153 اور 154 کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبوں کے درمیان تنازعات کے خاتمے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے مشترکہ مفادات کونسل کو مزید فعال بنایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی میں شامل قوم پرست جماعتوں کے ارکان نے واضح کیا کہ اگر آئینی پیکج میں صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ پیکج کے منظور شدہ دیگر نکات کی بھی حمایت نہیں کریں گے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات میں صوبائی خودمختاری سے متعلق آئینی شقوں میں ترامیم کے لئے سفارشات کی تیاری کا آغاز ہوگیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے مشکل ترین ٹاسک پر کام کا آغاز کیا ہے۔ آئندہ اجلاس میں کنکرنٹ لسٹ، صوبوں میں موجود معدنی وسائل کی حق ملکیت مختلف امور کے حوالے سے صوبوں کو قانون سازی کا اختیار دیئے۔ صوبائی اسمبلیوں کی قرار دادوں میں عملدآمد کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ آئینی شقوں میں ترامیم کا جائزہ لیا جائے گا۔
آئینی کمیٹی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions