اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام) بی بی سی نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے کہا ہے کہ قوم کو مبارک ہو‘ قوم کے سپہ سالار کو مبارک ہو خاص طور پر ان عسکری تجزیہ نگاروں کو مبارک ہو جو پہلے ہی یہ کہہ رہے تھے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ریٹائر نہیں ہونے دیا جائے گا جب وزیراعظم نے قوم کو اس بارے میں خوش خبری سنائی تو سب سے پہلے انہی تجزیہ نگاروں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ یہ فیصلہ ظاہر ہے خصوصی حالات میں کیا گیا ہے‘ بتایا گیا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور جنگ کے درمیان سپہ سالار نہیں بدلا جاتا جیسے منجدھار کے درمیان کشتی نہیں بدلا کرتے۔ ہمیں بچپن سے ہی یہ بتایا گیا ہے کہ فوج پاکستان کا سب سے زیادہ پروفینشل ادارہ ہے بلکہ اکثر عسکری ماہرین یہ بھی کہیں گے کہ ملک کا واحد ادارہ ہے جو ڈسپلن کا پابند ہے جہاں پر افسر کے حکم پر جوان اور بڑے افسر کے حکم پر چھوٹا افسر اپنی جان دے دیتا ہے لیکن یہ نہیں پوچھتا کہ میں ایسا کیوں کروں۔ بی بی سی کے مطابق کچھ عاقبت نااندیش یہ پوچھیں گے کہ اگر ملک کے واحد مستعد اور مستحکم ادارے کا سربراہ بھی اس ادارے کے اپنے قاعدے اور قانون کے مطابق تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو یہ کیسا نظم و ضوبط ہے‘ کچھ ایسے شہری جو عسکری امور میں مہارت نہیں رکھتے یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر صرف اور صرف ایک شخص ہی یہ جنگ لڑ سکتا ہے تو پھر باقی ہزاروں جرنیل اپنے کندھوں پر ایک دو اور تین پھول سجائے کیا چنے بیچتے ہیں؟ کیا یہ ان سینئر جرنیلوں کے ساتھ بے انصافی نہیں جو 35‘ 40 سال جاں فسانی کے ساتھ نوکری کر چکے ہیں لیکن اب وہ فوج کی کمان نہیں کر پائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق 63 سال میں بھارت میں تو 25 سے زیادہ سپہ سالار آئے لیکن ہمارے ہاں صرف ایک درجن اور ان میں سے بھی تین قریباً 32 سال تک اس عہدے پر فائز رہے‘ اپنے عہدے میں خود ہی توسیع کرتے رہے (وہ بھی سب کے سب حالت جنگ میں تھے) اور کوئی سادہ دل یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ یہ تو قبول ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن یہ جنگ شروع کس نے کی؟ اور کتنے لوگ دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں؟ کئی مسخرے یہ بھی کہیں گے یہ جنگ اکیلے جنرل کیانی نہیں لڑ رہے‘ شہری محاذ پر رحمن ملک نے دہشت گردوں کے اس طرح چھکے چھڑائے ہیں کہ وہ مزاروں اور درباروں پر حملے کرنے پر اتر آئے ہیں‘ دس پندرہ سال کی توسیع انہیں بھی دی جائے۔ وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے ابھی چند ٹرینیں بند کی ہیں باقی ٹرینیں بند کرنے اور پھر پٹڑیاں اکھاڑ کر بیچنے میں کم از کم بیس سال اور الگ سکتے ہیں۔ بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف ملکی تاریخ کے سب سے بڑے بجلی بحران کے خلاف نبرد آزما ہیں انہیں اس بحران سے نمٹنے کے لئے تیس سال تو کم از کم دئیے جائیں۔ کئی سیاسی‘ غیر سیاسی تجزیہ نگار‘ دوست‘ دشمن بلکہ ایک آدھ عسکری امور کے ماہر بھی یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ مرحوم صدر فضل الٰہی کے بعد آصف زرداری ملک کو سب سے اچھے صدر ملے ہیں یا کم از کم اس بات پر سب کو اتفاق ہے کہ وہ ملک کے پہلے حکمران ہیں جنہوں نے اپنے اختیارات منتخب پارلیمنٹ کے حوالے کئے‘ اگر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جنرل کیانی سے مشورہ کر کے قانون میں ترمیم کر کے آصف زرداری کو تاحیات صدر بنا دیں تو کیا حرج ہے۔ مجھے یقین ہے آصف زرداری بھی جنرل کیانی کی طرح اپنے عہدے میں توسیع کے خواہش مند نہیں لیکن وسیع تر قومی مفاد میں ان سے پوچھ تو لیا جائے۔
Post New Comment