اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + مانیٹرنگ ڈیسک + ایجنسیاں) آئینی اصلاحات کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر اتفاق رائے ہو گیا ہے ۔ججوں کی تقرری میثاق جمہوریت کے مطابق ہو گی اس مقصد کے لئے 8 رکنی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اور 15 رکنی جوڈیشل کمشن بنے گا۔ 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی ججوں کی تقرری کی حتمی سفارش کرے گی۔ کمیٹی نے ججوں کی تقرری اور اختیارات سے متعلق آئینی شقوں میں ترامیم کے لئے سفارشات مرتب کر لی ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئر مین سینیٹر میاں رضا ربانی کی صدارت میں ہوا۔ جس میں ججوں کی تقرری کے طریقہ کار اور اعلیٰ عدلیہ کے اختیارات سے متعلق آئینی شقوں میں ترامیم کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی میں اعلیٰ عدلیہ سے متعلق سفارشات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ججوں کی تقرری کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ پارلیمانی قائم ہو گی جس میں حکومت اور اپوزیشن کی مساوی نمائندگی ہو گی۔ کمشن کے ارکان کی تعداد 8 ہو گی۔4 کا تعلق سینٹ،4 کا تعلق قومی اسمبلی سے ہو گا۔ جوڈیشل کمشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہونگے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار کے ارکان بھی اس کمشن کا حصہ ہونگے۔ ذرائع کے مطابق ججز کی تقرری کے لئے جوڈیشل کمشن کی جانب سے نام تجویز کرکے وزیراعظم کو بھجوائے جائیں گے جو بعدازاں پارلیمانی کمیٹی کو منظوری کے لئے بھیجے جائیں گے۔ ان ذرائع کے مطابق اگر وزیراعظم کی سفارشات کو پارلیمانی کمیٹی مسترد کرتی ہے تو اسے دو تہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہو گی۔ اطلاعات کے مطابق اعلی عدلیہ میں جج کی خالی نشست کے لئے 3 نام تجویم کئے جائینگے۔ وزیراعظم ان تین ناموں میں سے ایک نام تجویز کرکے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائیں گے۔ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں پارلیمانی پارٹی اسے صرف دوتہائی اکثریت سے منظور یا مسترد کر سکے گی۔ محض اکیرثتی ارکان مسترد نہیں کر سکیں گے۔ کمیٹی نے میثاق جمہوریت کے نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارشات کو حتمی شکل دی۔ اس مقصد کے لئے کمیٹی میں طویل بحث ہوئی۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں عدلیہ سے متعلق مزید امور طے کئے جائینگے جبکہ صوبائی خودمختاری کا جائزہ لیا جائے گا۔ ق لیگ صرف جوڈیشل کمشن بنانے کے مطالبہ سے دستبردار ہو گئی تھی وفاقی آئینی عدالت کی تجویز فی الحال ڈراپ کر دی گئی ہے۔
Post New Comment