اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت نیوز + ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) سینٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے کہا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے‘ جس ملک مےں پارلےمنٹ کے ارکان تاجر اور صنعتکار ہونگے وہاں مہنگائی کبھی ختم نہیں ہو گی۔ گذشتہ روز چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت اجلاس میں مہنگائی پر بحث کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رکن سینیٹر اسحق ڈار‘ اے این پی کے زاہد خان‘ سینیٹر ہمایوں خان‘ متحدہ قومی موومنٹ کے احمد علی و دیگر نے کہا کہ عوام کو ہنگامی بنیادوں پر ریلیف دیا جائے جبکہ وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ کالا باغ ڈیم بننا ہوتا تو 25 سال میں بن جاتا‘ 3 صوبائی اسمبلیاں اس کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہیں‘ متنازعہ چیزوں کو زیر بحث نہ لایا جائے۔ بھاشا ڈیم پر رواں سال کام شروع ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ افراط زر ایک بڑا مسئلہ ہے اور حکومت نے مختلف شعبوں میں عوام کو ایک سو ارب کی سبسڈی دی ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بھاری اخراجات کی وجہ سے ترقیاتی بجٹ 421 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کیا گیا ہے۔ ٹیکس وصولی کا 1380 ارب روپے کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ افراط زر کو ایک برس میں دس فیصد سے کم کر دیا جائے گا۔ غیر ملکی ترسیلات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں علی احمد نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے پاکستان دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ سینیٹر اسحق ڈار نے کہا کہ بجٹ خسارہ جاری ہے‘ ویلیو ایڈڈ ٹیکس آئی ایم ایف کے دبا¶ پر لگایا جا رہا ہے۔ آبادی کی شرح سے جی ڈی پی کے گروتھ ریٹ بڑھائے جائیں۔ آئی ایم ایف سمےت دےگر مالےاتی اداروں سے جان چھڑا کر ہمےں اپنی معاشی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا۔ برآمدات مےں واضع کمی نے ملکی معےشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دےا۔ سینیٹر ہمایوں خان نے کہا کہ لانگ مارچ صرف عدلیہ کی بحالی کے لئے نہیں بلکہ مہنگائی کے خاتمے کے لئے بھی ہونا چاہئے۔ کرپشن ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ جمال لغاری نے کہا کہ چینی کے اجارہ دار گروپوں نے اربوں روپے کمائے‘ بیرون ملک سے سرمایہ وطن واپس لایا جائے۔ اسماعیل بلیدی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر مہنگائی کے خاتمے کے لئے جامع منصوبہ بندی کریں‘ تیل کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ روکا جائے۔ عبدالحسیب خان نے کہا کہ مہنگائی ختم نہ ہوئی تو مزدوروں کا انقلاب آ کر رہے گا۔ بحث کے دوران وزرا اور ارکان کی بڑی تعداد ایوان سے چلی گئی جس پر جے یو آئی کے رکن اسماعیل بلیدی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کئی وزیر ہماری بحث سننے کے لئے یہاں موجود نہیں۔ ثناءنیوز کے مطابق راجہ پرویز نے کہا کہ پنجاب حکومت وفاقی حکومت کے تعاون سے چشمہ لنک کینال پر 44.3 میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ امریکہ پرانے اور غیر فعال پاور پلانٹس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے‘ تربیلا ڈیم کے لئے اس نے مالی معاونت دی ہے۔ گومل زام ڈیم پر 76 فیصد کام مکمل ہو گیا۔ وزیر انچارج برائے کابینہ ڈویژن سینیٹر لطیف کھوسہ نے ایوان کو یقین دلایا کہ انٹیلی جنس بیورو کے بحال کئے گئے ملازمین کو تنخواہوں اور دیگر واجبات کی ادائیگی جلد کر دی جائے گی۔
Post New Comment