اسلام آ باد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں طلبی سے متعلق معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ فل کورٹ اجلاس جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ہوا‘ جس میں سپریم کورٹ کے تمام ججوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 31 جولائی 2009ء کے لارجر بنچ کے فیصلے اور صدر مملکت کے نوٹیفکیشن کی روشنی میں فارغ ہونے والے عدالت عظمیٰ کے ججوں کو کوئی مراعات نہیں دی جائیں گی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے ججوں کے میڈیکل کے قواعد میں ترمیم کا بھی فیصلہ کیا گیا جس کے بعد جج فوجی‘ سول یا کسی بھی نجی ہسپتال سے علاج کرانے کے اہل ہوں گے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سائلین کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے مقدمات کے غیر ضروی التوا کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور التوا کے وقت عدالت خود آئندہ سماعت کی تاریخ بھی دی جائے گی۔ اجلاس میں منیر اے ملک‘ محمد یوسف لغاری‘ سید محمد کلیم‘ احمد خورشید‘ انور منصور خان‘ طارق محمود‘ عبداللطیف یوسفزئی اور خواجہ حارث احمد کو سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہونے کا بھی درجہ دیا گیا۔ اجلاس میں قرار دیا گیا کہ 31 جولائی کے فیصلے کے مطابق فارغ ہونے والے ججوں کی حیثیت ایسی تھی کہ جیسے وہ کبھی جج تعینات ہی نہیں تھے اس لئے انہیں آخری تنخواہ کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے حاضر سروس ملازمین کی مالی معاونت‘ سٹاف ویلفیئر فنڈز اور ریٹائرڈ ملازمین کی معاونت المیزان فنڈز سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
Post New Comment