کاروباری برادری لاکھوں متاثرین کی بحالی کے لئے آگے بڑھے: زرداری

ـ 21 اگست ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ایسا سیلاب تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی طویل جدوجہد ہے ہمیں طویل مدت کیلئے بحالی کی کارروائیوں کیلئے تیار رہنا چاہئے تاجروں اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ تعمیرنو کیلئے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے فوج کو سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کیلئے کہا ہے تاہم بحالی کا عمل طویل اور صبر آزما ہے سیاسی جماعتیں متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور دیہات کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی قوم کی مدد سے جلد مصیبت سے نکل آئیں گے سیلاب سے ہونے والی ہلاکتیں افسوسناک ہیں تاجر اور صنعت کار تعمیرنو کیلئے کردارادا کریں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے حکومت سیلاب کی تباہ کاریوں سے اکیلے نہیں لڑ سکتی۔ اجلاس میں کاروباری‘ تجارتی تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس کے 70 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ‘ وزیر دفاع چودھری احمد مختار اور دیگر شریک تھے۔ صدر زرداری نے کاروباری طبقے پر زوردیا کہ وہ ملکی تاریخ کے شدید ترین سیلاب کے نتیجہ میں متاثر ہونیوالے کئی ملین افراد کے ریسکیو ریلیف اوربحالی کی حکومتی کوششوں میں مدد کیلئے آگے آکربھرپوراندازمیںاپنا کردارادا کرے۔سیلاب سے متاثرہ افراد کی طویل عرصے تک دیکھ بھال ضروری ہے ہمیں قوم کی حیثیت سے اتحاد کامظاہرہ کرتے ہوئے اس چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے ملکی وسائل کو بروئے کار لانے کے بعد دوسروں کی مدد کی طرف دیکھنا ہوگا ، تباہ ہونیوالے گھروں متاثرہ املاک اورانفراسٹرکچر کی بہتر انداز میں تعمیرنو کرینگے ، تعمیر نو کے عمل کے دوران مستقبل کی ضروریات موسم ،ماحول اوردریاﺅں کے رخ کو بھی پیش نظررکھاجائے۔ صدر نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کیلئے غیر ملکی امداد سے زیادہ اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہو گا‘ قوم کو طویل جدوجہد کا سامنا ہے‘ تاجر 10 دیہات پر مشتمل مختلف زونز تعمیر کرنے کی ذمہ داری لیں‘ حکومت بھرپور تعاون کریگی۔ اس وقت دنیا سیلاب زدگان کی ریلیف اور بحالی میں ہماری مدد کر رہی ہے لیکن ہمیں اپنے وسائل پر زیادہ انحصار کرنا ہو گا‘ سیلاب کے اثرات ایک دو دن میں ختم ہونے والے نہیں‘ سیلاب کے باعث کثیر تعداد میں لوگ جاں بحق ہوئے ہیں اور یہ ایک بڑا سانحہ ہے ہمیں خود کو طویل جدوجہد کے لئے تیار کرنا ہو گا اور متاثرہ علاقوں کودوبارہ تعمیر کرنا ہو گا۔ حالیہ سیلاب سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ عمارتیں زیادہ اونچائی پر تعمیر کی جائیں گی۔ تاجروں کے نمائندوں نے تجویز دی کہ اضافی فنڈز کے حصول کے لئے ٹول ٹیکس دوگنے کئے جائیں‘ صنعتی شعبوں کی بحالی کیلئے بنک ہفتے کے روز بھی کھلے رکھے جائیں‘ قرضوں میں منافع شرح کم کی جائے۔ نمائندوں نے تجویز دی کہ حکومت عمرے کا ارادہ رکھنے والے صاحب ثروت حضرات کو بتائے کہ اس وقت سب سے بڑی نیکی مصیبت زدہ اہل وطن کی مدد ہے۔ صدر سے گورنر‘ وزیراعلی بلوچستان اور اے این پی کے سربرااہ اسفندیار ولی سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی اور وزیراعلی گلگت نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ صدر نے یقین دلایا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ صدر سے شمالی امریکہ کے رضاکار ڈاکٹروں کے وفد نے بھی ملاقات کی۔ صدر نے طبی سہولیات کی فراہمی کی اپیل کی‘ صدر نے متاثرین سیلاب کے لئے خصوصی دعا میں بھی شرکت کی۔ صدر نے شوران میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تیاریوں بھی طلب کی ہے۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions