اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کا نامکمل نقشہ پیش کرنے پر کمیٹی کے ارکان نے شدید احتجاج کیا اور سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آئندہ حکومتی پالیسی کے مطابق نقشہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ پارلیمنٹ ہاوس کے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس کے دوران نیلم جہلم منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کے حکام کی جانب سے جو نقشہ پیش کیا گیا اس میں پاکستان کے نقشے کے ساتھمقبوضہکشمیر کو شامل کئے بغیر صرف آزاد کشمیر کا نقشہ پیش کیا۔ پاکستان کے سرکاری نقشہ میں مکمل جموں و کشمیر کا علاقہ دکھایا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ علاقہ کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے۔
Post New Comment