اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) امریکی وزیر خارجہ ہلےری کلنٹن پاکستان پر زور ڈال رہی ہیں کہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف موثر کارروائی کیلئے وہ افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرے اور اس سلسلے میں تعاون میں مزید اضافہ کیا جائے۔ افغان دارالحکومت کے دورے پر وہ افغان حکومت کے سامنے بھی یہی مطالبہ رکھیں گی کہ پاکستان کے ساتھ تعاون اور اعتماد کو فروغ دیا جائے۔مستند امریکی حکام اپنی وزیر خارجہ کے رواں دورے کو پاکستان کی معاشی و سماجی ترقی کے پش منظر میں پیش کر رہے ہیں لیکن پاکستان سے القاعدہ کے خلاف کارروائی کے سلسلے میںمزید تعاون کا مطالبہ کرنا ان کے ایجنڈے کا اہم حصہ ہے۔ان ذرائع کے مطابق اتوار کو پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میںامریکی وزیر خارجہ نے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس بار امریکہ پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا اور پاکستان کی معاشی ترقی اور سلامتی کے سلسلے میں وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔ان ذرائع کے مطابق امریکہ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان دونوں کے انسداد کے سلسلے میں پاکستان سے مزید تعاون کا طلبگار ہے۔پاک افغان تعاون میں اضافے کے ضمن میں اتوار کے روز دونوں ملکوں کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہلےری کلنٹن کیلئے بہت تقویت کا سبب بنا ہے اور اس پر انہوںنے مسرت کا اظہار کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد کا ایک اور مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کے مختلف شعبوں میں ماہرین کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کا جائزہ لینا ہے۔پاکستان کیلئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات محض سلامتی کے امور تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کا دائرہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کے تمام شعبوں تک پھیل گیا ہے۔
Post New Comment