اسلام آباد (ریڈیو نیوز + اے پی پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے صوبوں کے درمیان پانی و بجلی کے مسائل حل کرنے کےلئے چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ کو اگلے اجلاس میں بلا لیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق نوابزادہ میر لشکری رئیسانی کی زیرصدارت اجلاس میں ملک میں جاری مختلف پاور منصوبوں اور صوبوں کو پانی کی تقسیم کا جائزہ لیا گیا۔ چےئرمین واپڈا نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک میں مجموعی پانی کا صرف 13 فیصد محفوظ کیا جارہا ہے چند چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کےلئے چین کی حکومت سرمایہ کاری کرنے کو تیار ہے۔ ممبر کمیٹی کا کہنا تھا کہ بھارت نے دریائے کابل پر ڈیم بنانے کےلئے افغانستان کو 10 لاکھ ڈالر دیئے ہیں جس پر چیئرمین واپڈا شکیل درانی نے کہا کہ بھارت اور افغانستان دریائے کابل پر ڈیم بنانے کےلئے چار مقامات پر سروے کر رہے ہیں اور دریائے کابل کے پانی کے استعمال کےلئے افغانستان سے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ چیئرمین ارسا نے کہا کہ ربیع کی فصل کےلئے بلوچستان کو پورا پانی دیا گیا لیکن انہوں نے شکایت کی کہ سندھ نے 26 فیصد کم پانی دیا ہے۔ منگلا ڈیم اپ ریزنگ پراجیکٹ پر کام کی تکمیل میں 2 سال کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
Post New Comment