”مطلوبہ تقرریاں ہو چکیں“ سپریم کورٹ نے ججز کیس کے حوالے سے تمام درخواستیں نمٹا دیں

ـ 19 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (ریڈیو نیوز) سپریم کورٹ نے ججوں کی تقرری سے متعلق تمام 7 درخواستیں غیرموثر ہونے پر نمٹا دی ہیں۔ ان میں بیرسٹر ظفر اللہ‘ ندیم رضا ایڈووکیٹ اور اکرم شیخ ایڈووکیٹ کی دائر کردہ درخواستیں بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں ایک درخواست کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل نے دائر درخواستوں کو بدنیتی پر مبنی کہا تو جسٹس جواد ایس خواجہ نے انہیں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے منع کردیا۔ ججز کی تقرری میں تاخیر سے متعلق درخواستوں کی سماعت جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کررہا تھا۔ ایک درخواست گزار اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ججوں کی 31 آسامیوں پر تقرر کیا گیا لیکن اب بھی بہت سی آسامیاں خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ججز کے تقرر میں جوڈیشل مشاورت کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنا تحریری جواب عدالت میں پیش کیا اور یہ ریمارکس بھی دئیے کہ ججز تقرر کیس میں دائر درخواستیں بدنیتی پر مبنی ہیں۔ اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ گزشتہ دو دن میں بہت کچھ ہوچکا ہے اور آپ کو ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قوم نے چار روز انتہائی تناﺅ میں گزارے اور محض خدشات کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔ ندیم رضا ایڈووکیٹ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جو تقرریاں مانگی گئی تھی اسکا نوٹیفکیشن ہوچکا ہے۔ اب نوٹیفکیشن کے بعد درخواست غیرموثر ہے۔ واضح رہے کہ درخواست ندیم رضا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ پنجاب حکومت کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ ججوں کی تعیناتی کا معاملہ پھر سے اٹھ سکتا ہے جس پر جسٹس شاکر اللہ جان نے کہا کہ اگر ججز کی تعیناتی کا معاملہ دوبارہ اٹھا تو آپ دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions