اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+ نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اعتراف کیا ہے کہ بعض استثنیٰ کے ساتھ ملک میں سزائے موت ختم کرنے کی تجویز زیرغور ہے اور اس ضمن میں قانون وضع ہونے کے بعد اس پر عملدرآمد کیا جائے گا‘ طویل عرصہ سے زیرالتواءمقدمات والے قیدیوں کو خصوصی رعایت دینے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی میں شیرین ارشد خان کے سوال کے تحریری جواب میں ایوان کو بتائی۔ وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ مارچ 2008ءسے اب تک ممنوعہ بور کے 29ہزار 27اسلحہ لائسنس جاری کئے گئے‘ ملک میں افغان مہاجرین کیمپ امن و امان کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ بلوچستان میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ کم ہوا ہے۔ مدارس کے ساتھ تمام معاملات طے پا گئے ہیں۔ ہنڈی کا کاروبار کرنیوالوں کیخلاف کارروائی سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں۔ سوات میں اس وقت مکمل امن ہے‘ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن ختم کر لیا گیا‘ وہاں پر لوگ واپس جانا شروع ہو گئے ہیں اس کے علاوہ دیگر ایجنسیوں میں آپریشنز کے بعد طالبان نے ملک کے دیگر علاقوں میں جانا شروع کر دیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے دشمنوں نے جو منصوبہ بندی کی وہ فاٹا کے بعد کراچی کو غیرمستحکم کرنا تھا مگر قانون نافذ کرنے والے ہمارے اداروں کی کارروائی اور قوم کی حمایت سے دہشت گردوں کی کمرٹوٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی حکومتی رٹ چیلنج ہوں گی بلاامتیاز کارروائی ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ اب ساری بلوچ قیادت کے ساتھ حکومت رابطے میں ہے۔ سارے بگٹی قبائل کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہاکہ تمام ملکوں میں اپنے سفارتخانوں میں آئندہ پانچ سالوں میں نادرا کے دفاتر قائم کریں گے۔علاوہ ازیں گذشتہ روز وزیر داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں کہاکہ حکومت امن و امان کے قیام کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے‘ دہشت گردوں کے خاتمہ تک ان کیخلاف کارروائی جاری رکھی جائیگی‘ غیرریاستی عناصر پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر فضل الرحمان نے رحمن ملک کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر داخلہ
Post New Comment