اسلام آباد (لیڈی رپورٹر) قومی اسمبلی میں ہندو رکن اسمبلی رمیش لال نے ایک اخباری خبر کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ کسی کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں کہ پاکستان میں حملے مسلمان کررہے ہیں لیکن پیسے ہندو فراہم کررہے ہیں۔ اس بات سے ہندو برادری کی دلآزاری ہوئی ہے۔ منگل کو رمیش لال سمیت حکومتی و دیگر اراکین نے علامتی واک آﺅٹ کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل کی۔ وفاقی وزیر برائے محنت و افرادی قوت سید خورشید شاہ اراکین کو واپس ایوان میں لیکر آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ معذرت خواہ ہیں‘ تمام پاکستانی ہندو محب وطن ہیں۔ ان کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ قائداعظمؒ بانی پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے بھی وہی حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔ رکن اسمبلی علی اکبر نے کہا کہ میڈیا بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ وکلاءاراکین پارلیمنٹ کو کرپٹ کہتے ہیں۔ ایک بار آکر انتخابات میں حصہ لیں۔ اراکین پارلیمنٹ 5 سے 10 لاکھ افراد کے نمائندے ہوتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے وسیم اختر نے اپنے ایک نکتہ اعتراض پر کہا کہ کراچی سے زولوجیکل میوزیم اسلام آباد منتقل کرنا کراچی کیساتھ زیادتی ہے۔ میوزیم جہاں بنا ہے وہیں ہونا چاہئے۔ ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت نے کہا کہ ایک طرف امن کی آشا کی باتیں کی جا رہی ہیں دوسری طرف ایسے بیانات جاری کئے جا رہے ہیں جو خطرناک ہیں۔ بشریٰ گوہر نے کہا کہ وزراءاور مشیروں کی پہلے ہی فوج ہے تو اتنی بڑی کابینہ کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کل پختونخواہ کی اسمبلی میں دوپٹہ پھینکا گیا۔ دوپٹہ پھنیکنے کو بزدلی کے نشان کے طور پر استعمال کیا گیا۔ شہبازشریف اپنے بیان پر معافی مانگیں۔ منور تالپور نے کہا کہ ہندو برادری ہمارے بھائی ہیں۔ ہمایوں سیف اللہ نے اپنے نکتہ اعتراض پر کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹیز میں خرابیوں کو دور کریں۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ مضبوط صوبوں کا مطلب ہے مضبوط پاکستان۔
Post New Comment