اسلام آباد : آئینی پیکج پر رواں ہفتے کام مکمل کر لیا جائے گا: حکومت

ـ 17 مارچ ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ رواں ہفتے کے اواخر تک آئینی پیکج پرکام کر لیا جائے گا‘ تاہم اگلے ہفتے پارلیمنٹ میں 18 ویں ترمیم پیش ہونے کا امکان ہے، مسلم لیگی قیادت کا موقف ہے کہ صوبائی خود مختاری کے ایشو کو صوبے کے نام کی تبدیلی سے مشروط نہیں کرنا چاہئے۔ کمیٹی کے ایک رکن نے ”نوائے وقت“ کو بتایا ہے کہ جہاں تک کمیٹی کا تعلق ہے تمام امور پر مثبت انداز میں پیش رفت ہو رہی ہے تاہم اگر ایوان صدر کی جانب سے اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی گئی تو کمیٹی رواں ہفتے میں سفارشات تیار کرے گی۔ آئینی اصلاحات پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین میاں رضا ربانی کی زیر صدارت میں منعقد ہوا‘ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما کا موقف ہے کہ صوبائی خود مختاری اہم مسئلہ ہے اس پر اتفاق رائے ایک تاریخی کامیابی ہوگی‘ صوبے کے نام سے سرحد سے تعلق رکھنے والی تمام سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے ضروری ہے‘ مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف آج برطانیہ کے نجی دورے سے وطن واپس آ رہے ہیں‘ ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان بھی آج لاہور پہنچ رہے ہیں پارٹی رہنماوں سے مشاورت کے بعد رواں ہفتے کے اواخر میں میاں نوازشریف اور اسفند یار ولی کی اسلام آباد میں ملاقات کا امکان ہے۔ نواز شریف کی آمد کے بعد مسلم لیگی رہنماﺅں کا اجلاس ہوگا جس مےں آئینی ترمیم کے سلسلے مےں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ہونے والی ملاقاتوں سے میاں نواز شریف کو آگاہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان بھی آج لاہور پہنچ رہے ہےں۔ منگل کو آئین کے آرٹیکل 157 کی شق I کا جائزہ لیا گیا جس کے تحت ہائیڈرل پاور سٹیشن کے مقام کے تعین کے لئے وفاق کو متعلقہ صوبے سے مشاورت لازمی قرار دی گئی ہے، صوبوں کو پاور پلانٹس لگانے کا اختیار برقرار رہے گا تاہم وفاق اس مقصد کے لئے انہیں مالی امداد فراہم کرے گا۔ ذرائع کے مطابق بندرگاہوں کی آمدنی اور جنرل سیلز ٹیکس کی تقسیم کے بارے مےں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ آئینی کمیٹی سے اجلاس مےں وفاق نے سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبوں کو دینے سے انکار کر دیا۔ اجلاس مےں بندرگاہوں کے حوالے سے بحث ہوئی اجلاس مےں سفارش کی گئی کہ صوبے ہائیڈرو پلانٹ لگانے کے مجاز ہوں گے تاہم بجلی کے پیداواری منصوبوں سے متعلق وفاق صوبوں سے مشاورت کا پابند ہوگا۔

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions