تازہ ترین:

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا دبائو‘ حکومت اپنے فیصلوں کی نفی پر مجبور

ـ 17 جولائی ، 2009
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے دبائو کے بعد حکومت ان مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کیلئے کیے گئے بعض ایسے فیصلوں کی خود ہی نفی کرنے پر مجبور ہوگئی ہے جو اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد موجودہ حکومت نے معاشی نظام کی بہتری کے نام پر کیے تھے۔ سپریم کورٹ کو پیش کی گئی رپورٹ میں تیل صاف کرنے اور بیچنے والی کمپنیوں کی نفع سے متعلق اپنے ریمارکس میں بھگوان داس کمشن نے کہا ہے کہ یہ کمپنیاں تیل خریدنے اور بیچنے کے عمل میں اپنے حق سے بہت زیادہ نفع کماتی ہیں جس کی وجہ سے عام صارف کیلئے ان مصنوعات کی قیمتوں میں غیرضروری اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان کمپنیوں کے نفع میں گذشتہ 8 برسوں میں بعض صورتوں میں 3 ہزار فیصد تک بھی اضافہ کیا گیا۔ ایسی ہی ایک کمپنی میں اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اسی بے پناہ منافع کی بنیاد پر یہ کمپنیاں مختلف حکومتوں میں شامل بیورو کریٹس اور سیاستدانوں پر اثرانداز ہوکر اپنے نفع میں مسلسل اضافے کا بندوبست کرتی رہتی ہیں۔ رانا بھگوان داس کمشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تیل کمپنیوں کے نفع کی تعین کے حوالے سے اجلاسوں میں سرکاری افسران بیشتر مواقع پر شریک ہی نہیں ہوئے اور یوں عملاً منافع کے تعین کا اختیار خود ان کمپنیوں کے سپرد کردیا گیا۔ مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے ازخود تیل صاف کرکے مختلف مصنوعات میں تبدیل کرنے اور انہیں بیچنے والی کمپنیوں کے نفع کو جائز سطح پر لانے کا فیصلہ کیا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں دوسری مرتبہ تیل کی ترسیل کی کمپنیوں کے نفع میں تبدیلی کی جائے گی۔ ماہرین سوال اٹھاتے ہیں کہ ملکی معیشت سے متعلق اتنے اہم نوعیت کے فیصلے پہلے غیرسرکاری عناصر اور اب عدالت کے دبائو کے نتیجے میں کیے جانے کے باعث کیا۔ معاشی حکمت سے خالی اور وقتی نوعیت کے نہیں ہوں گے؟
نفی پر مجبور

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions