اسلام آباد (بی بی سی ڈاٹ کام) پاکستان مےں دیوبند مکتب فکر کے ممتاز عالم اور جامعہ بنوریہ العالمیہ سائیٹ کراچی کے مفتی مولانا محمد نعیم نے کہا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون پر سیاست نہیں ہونی چاہئے اور مذہبی جماعتوں کو اس حساس معاملے پر بیان بازی اور جلسے جلوس سے گریز کرنا چاہئے۔ بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو مےں انہوں نے کہا کہ کچھ مذہبی سیاسی جماعتیں اس معاملے پر سیاست کر کے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہےں، ان کو کوئی اور موقع نہیں ملا تو وہ اس سے فائدہ اٹھا رہی ہےں، یہ خالص مذہبی معاملہ ہے اس کو مذہبی انداز ہی مےں حل ہونا چاہئے۔ مفتی نعیم نے کہا کہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل مےں گرفتار پولیس اہلکار ممتاز قادری کو ہیرو بنا کر پیش کرنا بھی غلط ہے۔ ماورائے عدالت جو بھی کام ہوگا وہ غلط ہے اس لئے ممتاز قادری کو ہیرو بنانا مےں سمجھتا ہوں صحیح نہیں۔ یہ عدالت پر چھوڑا جائے، عدالت اس کا فیصلہ کرے گی کہ وہ ہیرو ہے یا کچھ اور۔ وکیلوں اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کے ایک گروہ کی جانب سے ممتاز قادری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کا گھیراﺅ کرنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ماورائے عدالت جو بھی کام ہوگا تو اس سے ملک کے اندر افراتفری پھیلے گی۔ انہوں نے کہا لال مسجد کے مسئلے مےں بھی ہم نے غازی عبدالرشید اور مولانا عبدالعزیز کو یہی کہا تھا کہ آپ قانون اپنے ہاتھ مےں نہ لیں، ریاست مےں ریاست نہ بنائیں اگر یہ ہو جائے گا تو ہر آدمی دوسرے کو مارتا رہے گا۔ مفتی محمد نعیم نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کےلئے وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہےں لیکن یہ کمیٹی اس صورت مےں موثر ثابت ہوگی جب حکومت اس کی تشکیل سے پہلے مذہبی سیاسی جماعتوں اور دینی مدارس کی تنظیموں وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات کو اعتماد مےں لے گی۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون کے اندر اگر کوئی سقم ہے تو اس کو کوئی ضابطہ بنا کے دور کیا جا سکتا ہے۔
Post New Comment