اسلام آباد (شمشاد ملک‘ وقت نیوز) اسلام آباد پولیس نے القاعدہ اور تحریک طالبان کے ایک حساس نیٹ ورک کو پکڑ لیا ہے۔ القاعدہ کے لئے کام کرنے والی تین خواتین اور ایک مرد سے متعلق مکمل کوائف حاصل کر لئے گئے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے پنجاب میں تحریک طالبان کی کمر توڑنے اور القاعدہ کے خفیہ رابطوں سے متعلق ایک انتہائی اہم نیٹ ورک کا سراغ لگایا ہے۔ اس نیٹ ورک میں تین تعلیم یافتہ خواتین میمونہ‘ مبینہ اور روبینہ شامل تھیں اور ان کو اویس نامی ایک نوجوان کی معاونت بھی حاصل تھی۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق مبینہ اور روبینہ اسلام آباد کی ایک بڑی یونیورسٹی کی طالبہ ہیں جبکہ میمونہ تحریک طالبات پاکستان کی ناظمہ بتائی گئی ہیں۔ میمونہ کا ایک بیٹا ہشام القاعدہ کے میڈیا ونگ میں انتہائی متحرک رہا ہے تاہم پولیس کو اس بات کی بھی تصدیق ہوئی ہے کہ ہشام نیٹو افواج کے حملوں میں جاں بحق ہو چکا ہے۔ مذکورہ تین خواتین القاعدہ کیلئے ”برین واشر“ کا کام کرتی تھیں۔ میمونہ‘ مبینہ اور روبینہ پڑھے لکھے گھرانوں کی خواتین کو تحریک طالبان کے مقاصد اور مقدس جہاد کے حوالے سے دلائل دے کر قائل کرتی تھیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان تینوں خواتین اور ان کے ساتھی اویس کو 2009ءمیں مشکوک جان کر حراست میں لیا تھا اور اس کی تحقیقات اور نیٹ ورک تک پہنچنے کی ذمہ داریاں ڈی ایس پی خالد مسعود اکرام کو دی گئیں لیکن مذکورہ ڈی ایس پی نے ان خواتین اور ان کے ساتھی مرد کو بے گناہ قرار دے دیا تھا۔ آئی جی اسلام آباد کلیم امام نے ڈی ایس پی کو اس کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ تھانہ سبزی منڈی میں درج مقدمہ نمبر 227 کے ان تمام ملزمان بارے ریکارڈ اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ تھانہ سبزی منڈی پولیس کا کہنا ہے کہ ان خواتین اور ان کے ساتھی مرد نے عدالت سے ضمانت کروا لی تھی اور تھانہ سبزی منڈی پولیس نے ان کی ضمانت کی منسوخی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دیدی ہے جس کی سماعت 22 جون کو ہو گی۔
Post New Comment