اسلام آباد (ثناء نیوز) پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں صوبوں کی مساوی نمائندگی کے باوجود قومی بجٹ پیش اور پاس کرنے میں اس کا کوئی کردار اور اختیار نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ میں چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی کے باوجود ایوان بالا کے اراکین وفاقی بجٹ کے حوالے سے سفارشات اور تجاویز دینے تک محدود ہیں۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ قومی اسمبلی ایوان بالا کی ان سفارشات کو تسلیم کرے یا نہ کرے ۔ اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین سینٹ نے قومی بجٹ سے متعلق ایوان بالا کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان بالا میں ثناء نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے جماعت اسلامی پاکستان کے پارلیمانی لیڈر اور ممتاز ماہر معیشت سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ایوان بالا چاروں صوبوں کا نمائندہ ایوان ہے اس آئینی اور جمہوری ادارے کو بجٹ کے حوالے سے بااختیار بنانا ہو گا۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبد الرحیم مندوخیل نے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے سینٹ قومی اسمبلی کو مساوی اختیارات حاصل ہونے چاہئیں اور بجٹ میں ہماری تجاویز کو شامل کرنے کو لازمی قرار دیا جائے۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے ایوان بالا کو صرف ڈبیٹنگ سوسائٹی سے زیادہ درجہ حاصل نہیں ہے۔ حکومتی سینیٹر صفدر عباسی نے کہا کہ واقعی یہ تشنگی ہے کہ بجٹ کے حوالے سے سینٹ کو کوئی خاص اختیار حاصل نہیں ہے۔ ایوان بالا کے تمام اراکین سینٹ اس بات سے متفق ہیں کہ بجٹ کے بارے میں سینٹ کو مساوی کردار کے تعین سے چھوٹے صوبوں کے مسائل اور احساس محرومی کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔
Post New Comment