اسلام آباد (سکندر شاہین/ نیشن رپورٹ) بدنام زمانہ تنظیم بلیک واٹر کے مالک کی طرف سے فروخت کےے جانے کے اعلان کے باوجود اس کے اسلام آباد میں موجود سینکڑوں ارکان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور وہ بدستور اسلام آباد میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ بلیک واٹر کے مالک ایرک پرنس نے گزشتہ ماہ بدنام زمانہ تنظیم کو فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکام نے ”دی نیشن“ کو بتایا تھا کہ تنظیم کے ارکان کو دو یا تین ہفتوں میں واپس بلا لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں سے بھی تنظیم کے ارکان واپس جائیں گے تاہم صورتحال اس سے مختلف ہے۔ بلیک واٹر کے لےے کرائے پر لےے گئے 33 گھروں میں سے 5 گھروں یا دفاتر کو اسلام آباد میں ہی تبدیل کر دیئے گئے ہیں اور ان کے سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔ یہ گھر اور دفاتر اب ای سیون اور بی سکس آئی فور کے علاقوں میں منتقل کر دیئے گئے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ مزید گھروں اور دفاتر کو ”ری لوکیٹ“ کیا جائے گا۔
بلیک واٹر
Post New Comment