پنجاب کے مطالبہ پر ارسا نے چشمہ لنک کینال کھول دی‘ سندھ کا احتجاج‘ نمائندے کی مستعفی ہونے کی دھمکی

ـ 13 فروری ، 2010
  • Adjust Font Size

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) ارسا کے اجلاس میں چشمہ جہلم لنک کینال سے پنجاب کو چھ ہزار کیوسک پانی فراہم کرنے اور ربیع سیزن کے لئے واٹر پلان منظور کر لیا گیا۔ سندھ کے نمائندے محمد خان میمن نے شدید احتجاج کیا اور مستعفی ہونے کی دھمکی دی۔ ارسا کا خصوصی اجلاس چیئرمین امن گل خٹک کی سربراہی میں ہوا اجلاس میں چاروں صوبوں اور وفاق کے نمائندے نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ نے چشمہ جہلم کینال لنک کھولنے کی شدید مخالفت کی سندھ کی جانب سے مخالفت کے بعد ارسا اجلاس میں ووٹنگ کرائی گئی جس میں پنجاب کو سرحد اور بلوچستان نے ووٹ دیا جبکہ سندھ کی حمایت وفاق کے نمائندے نے کی مگر اکثریت رائے کے بعد چشمہ جہلم کینال سے پنجاب کو چھ ہزار کیوسک پانی فراہم کرنے کے علاوہ ربیع سیزن جو 31 مارچ تک جاری رہے گا واٹر پلان بھی منظور کر لیا۔ سندھ کے نمائندے محمد خان میمن نے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارسا پنجاب کا ادارہ بن چکا ہے‘ سندھ کو پانی سے محروم کیا جا رہا ہے سندھ کی زراعت تباہ ہو رہی ہے۔ ارسا کے اجلاس میں سندھ کا موقف تسلیم نہیں کیا گیا‘ میں سندھ حکومت سے بات کر کے ارسا کے عہدے سے مستعفی ہو جا¶ں گا۔ ذرائع کے مطابق ارسا اجلاس میں سندھ کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا گیا۔ ارسا نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ پنجاب کے مطالبے پر چشمہ لنک کینال کھول دی گئی ہے‘ اس کینال سے 6 ہزار کیوسک پانی کی فراہمی شروع ہو گئی ہے۔ 11 فروری سے 31 مارچ تک پانی کی تقسیم ایک کے مقابلہ میں 4 کی اکثریت سے ہو گی صرف سندھ نے اختلاف کیا تھا 11 فروری سے 31 مارچ تک سندھ کو 2.6 ملین ایکڑ فٹ پانی ملے گا۔ سرحد اور بلوچستان نے چشمہ لنک کینال کھولنے کی حمایت کی جبکہ وفاق اور سندھ نے مخالفت کی تھی۔ سندھ کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پنجاب، سرحد اور بلوچستان نے پانی کی تقسیم 1991ءکے معاہدے کی شق 14 ڈی کے تحت کرنے پر اتفاق کر لیا اور کہا کہ ہر صوبہ اپنے حصے کا پانی اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ اجلاس میں ربیع کے سیزن کیلئے پانی کی فراہمی کا فیصلہ ایک کے مقابلہ میں چار کی اکثریت سے کیا گیا، سندھ کا موقف تھا کہ پانی 0.3 ملین ایکڑ مکعب فٹ پانی 17 دسمبر 2009ءکو ہونے والے اجلاس کے فیصلہ کی روشنی میں پنجند سے نیچے جاری کیا جائے، اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ آیا پنجاب دریائے سندھ سے نکلنے والی نہروں سے پانی لے سکتا ہے یا پھر وہ یہ پانی چشمہ ڈیم لنک کنال اور تونسہ پنجند لنک کینال لے سے سکتا ہے اس پر ارکان میں کافی گرما گرمی دیکھنے میں آئی، سندھ اور وفاق کا موقف تھا کہ لنک کینال نہ ہی مستقل نہریں ہیں اور نہ ہی سیلابی بلکہ یہ دریائے سندھ کا اضافی پانی جنوبی پنجاب ڈسٹری بیوٹری نہروں کو منتقل کرنے کیلئے ہیں اس وقت دریائے سندھ میں اضافی پانی نہیں لہٰذا ان کے ذریعے پانی فراہم نہ کیا جائے، دونوں نہریں بین الصوبائی نہریں ہیں ان کا استعمال صرف ایک صوبہ کیلئے نہ کیا جائے تاہم سندھ کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے پنجاب، سرحد اور بلوچستان نے پانی کی تقسیم 1991ءکے معاہدہ کی شق 14 ڈی کے تحت کرنے پر اتفاق کیا اس کا فیصلہ 2 کے مقابلہ میں 3 سے ہوا جس کے تحت ہر صوبہ اپنے حصہ کا پانی اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ ربیع کی فصل کے کم پانی ہونے کے باعث ارسا نے فیصلہ کیا کہ اس دوران پانی کی جتنی بھی کمی آئے گی وہ سندھ اور پنجاب برابر برداشت کرینگے۔
ارسا / پنجاب / پانی

یہ خبر نواے وقت کے پرنٹ پیپر میں شائع کی گئی ہے اس تارخیح کا سارا پیپر پھرنے کے لیے.جہاں کلیک کریں

Post New Comment

Add the code from the left image to the box below

Opinions